$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

799 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ ثُمَّ يَقُولُ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ: «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يسْجد ثمَّ يكبر حِين يرفع رَأسه يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب نماز کے لیے اٹھتے تو کھڑے ہوتے وقت تکبیر کہتے پھر رکوع کے وقت تکبیر کہتےپھر جب رکوع سے پیٹھ اٹھاتے تو کہتے"سمع اﷲ لمن حمدہ"پھر کھڑے کھڑے کہتے"ربنالك الحمد" ۱؎ پھر جب جھکتے تو تکبیر کہتے پھر جب سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے پھر جب سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے پھر جب سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے پھر ساری نماز میں یونہی کرتے حتی کہ اسے پوری کرلیتے اور دو رکعتوں میں بیٹھنے کے بعد جب اٹھتے تو بھی تکبیر کہتے ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎  جب اکیلے نماز پڑھتے نہ کہ جماعت میں کیونکہ جماعت میں امام صرف"سِمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَہ"کہتا ہے اور مقتدی صرف "رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ"دونوں کلمے صرف اکیلا نمازی ہی جمع کرتا ہے اگرچہ اکیلا نمازی یہ کلمات آہستہ کہتا ہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم تعلیم امت کے لیے آہستہ کلمات بھی کبھی آواز سے فرمادیتے تھے اسی لیے صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ حضور ظہر میں فلاں سورتیں پڑھتے تھے اور عصر میں فلاں۔

۲؎  خلاصہ یہ کہ سوائے رکوع سے اٹھنے کے باقی نماز کی ہر حرکت میں تکبیر کہنا چاہیے۔

800 -[11]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الصَّلَاةِ طُولُ الْقُنُوتِ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بہترین نماز لمبا قیام ہے  ۱؎(مسلم)

۱؎ قنوت کے چند معنی ہیں:اطاعت،خاموشی،دعا،نماز کا قیام،یہاں آخری معنی(قیام)مراد ہیں یعنی بہترین نماز وہ ہے جس میں قیام دراز ہو۔خیال رہے کہ بعض علماء دراز قیام کو بہتر کہتے ہیں کیونکہ اس میں مشقت زیادہ ہے اسی میں تلاوت قرآن ہوتی ہے،نبی صلی اللہ علیہ و سلم تہجد میں اتنا دراز قیام فرماتے تھے کہ پاؤں شریف پر ورم آجاتا تھا۔ بعض کے نزدیک زیادہ سجدے افضل کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ربیعہ سے فرمایا کہ اگر جنت میں میرے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو زیادہ سجدے کرو،نیز فرمایا کہ انسان سجدے میں رب سے زیادہ قریب ہوتا ہے، نیز رب فرماتاہے:"وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ بعض کے نزدیک تہجد میں دراز قیام افضل اور دن میں زیادہ سجدے افضل ، رب فرماتا ہے:"قُمِ الَّیۡلَ اِلَّا قَلِیۡلًا"۔بعض نے فرمایا کہ بعض اعتبار سے لمبا قیام افضل ہے اور دوسرے اعتبار سے زیادہ سجدے افضل، ہمارے امام صاحب پہلے قول کو ترجیح دیتے ہیں ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

801 -[12]

عَن أبي حميد السَّاعِدِيّ قَالَ فِي عشرَة مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا فَاعْرِضْ. قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاة يرفع يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ يُكَبِّرُ ثُمَّ يَقْرَأُ ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ يَعْتَدِلُ فَلَا يُصَبِّي رَأْسَهُ وَلَا يُقْنِعُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلًا ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُ أَكْبَرُ» ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ سَاجِدًا فَيُجَافِي يَدَيْهِ عَن جَنْبَيْهِ وَيفتح أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيُثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا ثُمَّ يَعْتَدِلُ حَتَّى يَرْجِعَ كل عظم إِلَى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا ثُمَّ يَسْجُدُ ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُ أَكْبَرُ» وَيَرْفَعُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا ثُمَّ يَعْتَدِلُ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ ثُمَّ يَنْهَضُ ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا كَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ ثُمَّ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلَاتِهِ حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ ثُمَّ سَلَّمَ. قَالُوا: صَدَقْتَ هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد والدارمي وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ مَعْنَاهُ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي حُمَيْدٍ: ثُمَّ رَكَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ كَأَنَّهُ قَابِضٌ عَلَيْهِمَا وَوَتَّرَ يَدَيْهِ فَنَحَّاهُمَا عَنْ جَنْبَيْهِ وَقَالَ: ثُمَّ سَجَدَ فَأَمْكَنَ أَنْفَهُ وَجَبْهَتَهُ الْأَرْضَ وَنَحَّى يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَفَرَّجَ بَيْنَ فَخِذَيْهِ غَيْرَ حَامِلٍ بَطْنَهُ عَلَى شَيْءٍ مِنْ فَخِذَيْهِ حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَأَقْبَلَ بِصَدْرِ الْيُمْنَى عَلَى قِبْلَتِهِ وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى وَكَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ يَعْنِي السَّبَّابَةَ. وَفِي أُخْرَى لَهُ: وَإِذَا قَعَدَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَعَدَ عَلَى بَطْنِ قَدَمِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى وَإِذَا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ أَفْضَى بِوَرِكِهِ الْيُسْرَى إِلَى الْأَرْضِ وَأَخْرَجَ قَدَمَيْهِ مِنْ نَاحِيَةٍ وَاحِدَة

روایت ہے حضرت ابوحمید ساعدی سے آپ نے حضور کے دس صحابہ کی جماعت میں فرمایا کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی نماز کو تم سے زیادہ جانتا ہوں ۱؎ وہ بولے پیش کرو فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نماز کو کھڑے ہوتے تو اپنے ہاتھ اٹھاتے حتی کہ انہیں کندھوں کے مقابل کردیتے۲؎ پھرتکبیرکہتے پھر قرأت کرتے پھرتکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتی کہ انہیں کندھوں کے مقابل کردیتےپھر رکوع کرتے اور اپنی ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھ دیتے پھر کمر سیدھی کرتے تو نہ سر اٹھاتے نہ جھکاتے پھر اپنا سر اٹھاتے تو کہتے"سمع اﷲلمن حمدہ"۳؎ پھر اپنے ہاتھ اٹھاتے حتی کہ انہیں اپنے کندھوں کے مقابل کردیتے سیدھے ہوتے ہوئے پھر کہتے اﷲ اکبر پھر سجدہ کرتے ہوئے زمین کی طرف جھکتے ۴؎ تو اپنے ہاتھ پہلوؤں سے دور رکھتے اور پاؤں کی انگلیاں موڑ دیتے ۵؎ پھر سر اٹھاتے اور اپنا الٹا پاؤں بچھاتے پھر اس پر بیٹھ جاتے پھر سیدھے ہوتے حتی کہ ہر ہڈی سیدھے ہونے کی حالت میں اپنی جگہ لوٹ جاتی پھرسجدہ کرتے تو اﷲ اکبر کہتے اور اٹھتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑتے اس پر بیٹھ جاتے پھر سیدھے ہوتے حتی کہ ہڈی اپنی جگہ لوٹ جاتی ۶؎ پھر کھڑے ہوتے تو دوسری رکعت میں یونہی کرتے پھر جب دو رکعتوں سے اٹھتے تو تکبیر کہتے اور ہا تھ اٹھاتے حتی کہ انہیں کندھوں کے مقابل کردیتے جیسے کہ نماز شروع کرتے وقت تکبیر کہی تھی پھر اپنی باقی نماز میں یونہی کرتے حتی کہ جب وہ سجدہ ہوتا جس میں سلام ہے تو اپنا بایاں پاؤں باہر نکال دیتے اور بائیں کولہے پر بیٹھتے پھر سلام پھیر دیتے وہ بولے تم نے سچ کہا ایسے ہی نماز پڑھتے تھے۔(ابوداؤد،دارمی)۷؎  اور ترمذی اور ابن ماجہ نے اس کی معنی کی روایت کی ترمذی کہتے ہیں یہ حسن صحیح ہے ۸؎ اور ابوداؤد کی ابو حمید والی حدیث کی دوسری روایت میں ہے ۹؎ کہ پھر رکوع کرتے تو اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھتے گویا آپ انہیں پکڑے ہوئے ہیں اور اپنے ہاتھوں کو کمان کے چلّے کی طرح ٹیڑھا کرتے اور انہیں پہلوؤں سے دور رکھتے۱۰؎فرمایا کہ سجدہ کرتے تو اپنی ناک اور پیشانی زمین پر رکھتے اور اپنے ہاتھ پہلوؤں سے دور رکھتے  اور اپنی ہتھیلیاں کندھوں کے مقابل رکھتے ۱۱؎ اپنی رانوں کے درمیان کشادگی کرتے کہ اپنا پیٹ رانوں سے کسی حصے سے نہ لگاتے حتی کہ فارغ ہوجاتے پھر بیٹھتے تو اپنا بایاں بچھاتے اور اپنے دایاں پاؤں کا سینہ قبلہ کی طرف کردیتے۱۲؎  اور اپنا دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پر اور بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر رکھتے اور کلمے کی انگلی سے اشارہ کرتے ۱۳؎ اور ابوداؤ دکی دوسری روایت میں ہے کہ جب دو رکعتوں پر بیٹھتے توبائیں پاؤں پیٹ پر بیٹھتے اور دائیں کو کھڑا کردیتے اور جب چوتھی میں ہوتے تو اپنے سرین زمین سے لگاتے اور اپنے دونوں پاؤں ایک طرف نکال دیتے ۱۴؎

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html