Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

797 -[8]

وَعَن وَائِل بن حجرأنه رأى النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم رفع يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ من الثَّوْب ثمَّ رفعهما ثمَّ كبر فَرَكَعَ فَلَمَّا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت وائل بن حجر سے   ۱؎کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھاجب آپ نماز میں داخل ہوتے تو ہاتھ اٹھا ئےتکبیرکہی پھر اپنے ہاتھ کپڑے میں ڈھک لیے ۲؎ پھر دایاں ہاتھ بائیں پر رکھا۳؎پھر جب رکوع کرنا چاہا تو کپڑے سے ہاتھ نکالے پھر انہیں اٹھایا اورتکبیر کہی پھر رکوع کیا جب کہا"سمع اﷲ لمن حمدہ"تو  آپ نے ہاتھ اٹھائے ۴؎پھر جب سجدہ کیا تو اپنے دونوں ہتھیلیوں کے درمیان کیا ۵؎(مسلم)

۱؎ آپ کا نام وائل ابن حجر ابن ربیعہ ابن وائل ابن یعمر ہے، کنیت ابو حمیدہ ،قبیلہ بنی حزم سے ہیں،حضرموت کے شاہزادہ تھے، جب اسلام لانے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو حضور نے ان کے لیئے اپنی چادربچھادی اور اپنے قریب بٹھالیا اور فرمایا کہ تم نے ا ﷲ کے لیئے بہت دراز سفر کیا اور بہت دعائیں دیں ،حضر موت کا حاکم بنایا۔اس سے معلوم ہوا کہ آپ کو ہمیشہ حاضریٔ بارگاہ میسر نہ تھی۔

۲؎  چونکہ سردی زیادہ تھی اس لیے ہاتھ لپیٹ لیے۔ معلوم ہوا کہ نماز میں ہاتھ کھولنا ضروری نہیں،چادر وغیرہ میں ہاتھ لپیٹ کر یا ڈھک کر بھی جائز ہے۔

۳؎ سوائے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے تمام اماموں کے ہاں نماز میں ہاتھ باندھنا سنت ہیں، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں ہاتھ چھوڑ نا سنت ہیں۔یہ حدیث تمام اماموں کی دلیل ہے،نیز داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنا ان سب کے ہاں سنت ہے۔اس میں اختلاف ہے کہ ناف کے اوپر ہاتھ رکھے یا نیچے،ہمارے ہاں نیچے رکھنا سنت ہے۔فقیر نے"جاءالحق"حصہ دوم میں اس پر چودہ حدیثیں پیش کیں جس میں لفظ تحت السرہ یعنی ناف کے نیچے صراحتًامذکور ہے۔چنانچہ ابن ابی شیبہ نے سندصحیح سے جس کے سارے راوی ثقہ ہیں انہیں وائل ابن حجر سے روایت کی کہ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو نماز پڑھتے دیکھا تو آپ نے ناف کے نیچے بائیں ہاتھ پر دایاں ہاتھ رکھا۔دارقطنی،بیہقی،رزین،کتاب الاثار،مصنفہ امام محمد ابن حزم وغیرہم نے مختلف صحابہ سے مرفوع و موقوف حدیثیں نقل کیں جن سب میں تحت السرہ موجود ہے ،نیز ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے میں ادب کا اظہا رہے۔غلام مولیٰ کے سامنے ایسے ہی کھڑے ہوتے ہیں،کہنی پرناف سے اوپر ہاتھ رکھنا پہلوانوں کا طریقہ ہے جوکشتی لڑتے وقت خم ٹھونک کر مقابل کے سامنے آتا ہے۔ اس کی پوری تحقیق"جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھو۔

۴؎ ابھی کچھ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ رفع یدین کی یہ تمام حدیثیں منسوخ ہیں اس کا ناسخ ذکر کیا جاچکا۔واقعی اولًا حضور صلی اللہ علیہ و سلم رفع یدین کرتے تھے لیکن آخر حیات تک نہ کیا یہاں بھی ایک بار دیکھنے کا ذکر ہے۔

۵؎  اس طرح کہ سر مبارک ہاتھوں کے بیچ میں رہا ،یہ حدیث حنفیوں کی بڑی دلیل ہے کہ سجدہ میں ہاتھ کندھوں کے سامنے نہ رہے بلکہ سر کے آس پاس ایسے رہیں کہ اگر کان کی گدیا سے قطرہ گرے تو ہاتھ کے انگوٹھے پرگرے۔

798 -[9]

وَعَن سهل بن سعد قَالَ: كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ الْيَدَ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے  ۱؎فرماتے ہیں لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ مرد نماز میں دایاں ہاتھ اپنی بائیں کلائی پر رکھے۔۲؎ (بخاری)

۱؎  آپ انصاری ہیں ،خذرجی ہیں، قبیلہ بنی ساعدہ سے ہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے وقت پندرہ برس کے تھے ،مدینہ میں آخری صحابی آپ ہی ہیں، یعنی سب سے آخر میں آپ ہی کا انتقال ہوا۔

۲؎  ذراع کلائی سے لے کر کہنی تک کو کہتے ہیں، یہاں ناف کے نیچے کلائی پر ہاتھ رکھنا مراد ہے اگرسینہ پر ہاتھ رکھنا مراد ہوتا تو مرد کی قیدنہ ہوتی کیونکہ عورتیں سینہ پر ہاتھ رکھتی ہیں۔

 



Total Pages: 519

Go To