Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

791 -[2]

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ بِ (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ)وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَوِّبْهُ وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عُقْبَةِ الشَّيْطَانِ وَيَنْهَى أَنْ يَفْتَرِشَ الرَّجُلُ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ وَكَانَ يخْتم الصَّلَاة بِالتَّسْلِيمِ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نماز تکبیر سے اور قرأت الحمدﷲ رب العالمین سے شروع کرتے تھے  ۱؎ اور جب رکوع کرتے تو اپنا سر نہ اونچا رکھتے نہ نیچا لیکن اس کے درمیان ۲؎  اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہوجاتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو دوسرا سجدہ نہ کرتے حتی کہ سیدھے بیٹھ جاتے اور ہر دو رکعتوں میں التحیات پڑھتے تھے۳؎ او ر اپنا بایاں پاؤں بچھاتے تھے اور دایاں پاؤں کھڑا کرتے تھے ۴؎ اور شیطان کی بیٹھک سے منع کرتے تھے ۵؎ اور اس سے منع کرتے تھے کہ کوئی شخص اپنی کہنیاں درندے کی طرف بچھادے ۶؎ اور اپنی نماز سلام سے ختم فرماتے تھے۔(مسلم)

۱؎ یعنی بحالتِ امامت تلاوت قرآن بلند آواز سے اَلْحَمْدُ سے شروع کرتے تھے یعنی بِسْمِ اﷲِ آواز سے نہ پڑھتے تھے۔معلوم ہوا کہ بِسْمِ اﷲِ ہر سورت کا جز نہیں ،نہ اسے امام آواز سے پڑھے۔اس کی تائید اس واقعہ سے ہوتی ہے جو مسلم،بخاری وغیرہ تمام کتب احادیث میں موجود ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر پہلی وحی یہ آئی "اِقْرَاۡ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ"اس کے اول بِسْمِ اﷲِ نہیں آئی۔لہذا یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے، نیز اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بِسْمِ اﷲِ پڑھتے ہی نہ تھےمگر آہستہ،یہاں بلند آوازسے پڑھنے کی نفی ہے۔لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں بِسْمِ اﷲِ پڑھنے کا ذکر ہے کیونکہ وہ آہستہ پڑھنا مراد ہے۔خیال رہے کہ اصطلاح شریعت میں بحث نماز میں جہاں کہیں قرأت بولی جائے گی وہاں تلاوت قرآن مراد ہوتی ہے نہ کہ مطلقًا پڑھنا اسی لیے کہا جاتا ہے کہ نماز میں قیام، قرأت،رکوع،سجدہ فرض ہیں،لہذا اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم "سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ"نہیں پڑھتے تھے لہذا یہ حدیث "سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ"پڑھنے کی احادیث کے خلا ف نہیں۔

۲؎ یعنی پیٹھ شریف کے برابر یہی سنت ہے اس کے خلاف سنت کے خلاف ہے۔

۳؎ سوا مغرب کے فرض اور وتروں کے کہ ان میں پہلی التحیات دو رکعتوں کے بعد ہوتی ہے اور دوسری ایک رکعت کے بعد۔ خیال رہے کہ یہ دونوں التحیات واجب ہیں لیکن پہلی میں بیٹھنا واجب اور دوسری میں فرض ہے۔

۴؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم دونوں قعدوں میں اپنا بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھتے تھے اور داہنا پاؤں کھڑا کرتے تھے،یہ حدیث حنفیوں کی قوی دلیل ہے کہ ہر التحیات میں یونہی بیٹھے۔جن احادیث میں آیا کہ حضورصلی اللہ علیہ و سلم آخری التحیات میں بایاں پاؤں شریف داہنی جانب نکال دیتے اور زمین پر بیٹھتے وہ بڑھاپے یا بیماری کا حال ہے جب زیادہ دیر تک بائیں پاؤں پر نہ بیٹھ سکتے تھے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں ،حنفی لوگ ان دونوں حدیثوں پر عامل ہیں مگر ان کے مخالف اس حدیث کو چھوڑ دیتے ہیں۔

۵؎  اس کی صورت یہ ہے کہ دونوں سیرین زمین پر رکھے اور پنڈلیاں کھڑی کرے دونوں ہاتھ زمین پر بچھادے ،کتے کی سی بیٹھک یہ ممنوع ہے،چونکہ کتا گندا ہے اس لیے اس کی بیٹھک کو شیطانی بیٹھ فرمایا۔

۶؎  اس طرح کہ ایک جانب دونوں پاؤں بچھا دے سامنے کہنیاں کہ یہ بیٹھک بھی منع ہے۔

792 -[3]

وَعَن أبي حميد السَّاعِدِيّ قَالَ: فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا أَحْفَظُكُمْ لِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُهُ إِذَا كَبَّرَ جَعَلَ يَدَيْهِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ اسْتَوَى حَتَّى يَعُودَ كُلُّ فَقَارٍ مَكَانَهُ فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلَا قَابِضِهِمَا وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ الْقِبْلَةَ فَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ جَلَسَ على رجله الْيُسْرَى وَنصب الْيُمْنَى وَإِذا جَلَسَ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ قَدَّمَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْأُخْرَى وَقَعَدَ عَلَى مَقْعَدَتِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

روایت ہے حضرت ابوحمید ساعدی سے  ۱؎  انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کی ایک جماعت میں فرمایا کہ میں حضور انور کی نماز کا تم سب سے زیادہ حافظ ہوں میں نے حضورصلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا جب تکبیر کہتے تو اپنے ہاتھ اپنے کندھوں کے مقابل کرتے ۲؎  اورجب رکوع کرتے تو اپنے ہاتھوں سے گھٹنے مضبوط پکڑتے۳؎ پھر اپنی پیٹھ جھکاتے پھر جب سر اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہوجاتے حتی کہ ہر جوڑ اپنی جگہ لوٹ جاتا پھر جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ یوں رکھتے کہ نہ بچھاتے نہ سمیٹتے ۴؎ اور پاؤں کی انگلیوں کے سرے قبلہ رخ کرتے۵؎ پھر جب دو رکعتوں میں بیٹھتے تو اپنے بائیں پاؤں پر بیٹھتے اور دایاں کھڑا کرتے پھر جب آخری رکعت میں بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں آگے نکالتے او ر دوسرا پاؤں کھڑا کرتے اور کولہے پر بیٹھتے۶؎(بخاری)

 



Total Pages: 519

Go To