Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

واجب ہے ۔خیال رہے کہ بھول کر واجب چھوٹ جانے پر سجدہ سہو واجب ہے اور عمدًا چھوڑنے سے نماز لوٹانا واجب۔ چوتھے یہ کہ نماز میں تعدیل ارکان،یعنی اطمینان سے ادا کرناواجب ہے کیونکہ یہ بزرگ جلدی سے ادا کرکے آگئے تھے اسیلئے نماز دوبارہ پڑھوائی گئی۔

۴؎ یعنی ہر دفعہ یہ نماز پڑھ کر آتے سلام عرض کرتے اور لوٹا دیئے جاتے۔ خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے پہلی ہی دفعہ انہیں نماز کا طریقہ نہ سکھایا بلکہ کئی بار پڑھواکر پھر بتایا تاکہ یہ واقعہ انہیں یاد رہے اور مسئلہ خوب حفظ ہوجائے کہ جو چیز مشقت و انتظار سے ملتی ہے وہ دل میں بیٹھ جاتی ہے،جیسے ایک صحابی بغیر سلام کیے حاضر ہوگئے تو فرمایا پھر لوٹ کر جاؤ اور سلام کرکے آؤ،لہذا اس میں علماء کو طریقہ ٔتبلیغ کی تعلیم بھی ہے۔

۵؎یعنی جو سورت یا آیت تمہیں یاد ہو وہ پڑھو اس حدیث کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے:"فَاقْرَءُوۡامَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ"۔اس آیت اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنا فرض نہیں بلکہ مطلقًا تلاوت فرض ہے کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے وضوء قبلہ کو منہ اورتکبیر وغیرہ فرائض کے سلسلے میں مطلق قرأت کا ذکر کیا نہ کہ سورۂ فاتحہ پڑھنے کا۔جن احادیث میں آتا ہے کہ بغیر سورۂ فاتحہ نماز نہیں ہوتی وہاں مراد ہے کہ نماز کامل نہیں ہوتی لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں،یہ حدیث امام اعظم رحمۃ اللہ  علیہ کی بہت قوی دلیل ہے۔خیال رہے کہ بڑی آیت یا تین چھوٹی آیتوں سے کم پڑھنے کو قرأت قرآن یا تلاوت قرآن نہیں کہا جاتا۔لہذا  اس پر یہ اعتراض نہیں کہ قرآن کا ایک لفظ بھی پڑھنا نماز کے لیئے کافی ہونا چاہیے حالانکہ تم اس کے قائل نہیں۔

۶؎  اس کا نام ہے تعدیل ارکان،یعنی نماز کے ارکان کو اطمینان سے ادا کرنا کہ ہر رکن میں تین تسبیح کی بقدر ٹھہرنا۔یہ تعدیل امام شافعی رحمۃ اللہ  علیہ اور امام یوسف رحمۃ اللہ  علیہ کے ہاں فرض ہے،ان کی دلیل یہ حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تعدیل نہ ہونے پر فرمایا لَمْ تُصَلِّ تم نے نماز پڑھی ہی نہیں جس کے بغیر نماز بالکل نہ ہو وہ فرض ہوتا ہے ۔امام اعظم کے نزدیک تعدیل فرض نہیں بلکہ واجب ہے کہ جس کے رہ جانے سے نماز ناقص واجب اعادہ ہوتی ہے لیکن فرض ادا ہوجاتا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ لَمْ تُصَلِّ میں کمالِ نماز کی نفی آتی ہے یعنی تم نے کامل نماز نہیں پڑھی کیونکہ ابوداؤد، ترمذی،نسائی میں اسی حدیث کے آخر میں یہ بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اگر تم ان کاموں کو پورا کرو گے تو تمہاری نماز پوری ہوگی اور اگر ان میں سے کچھ کم کرو گے تو تمہاری نماز ناقص ہوگی۔معلوم ہوا کہ تعدیل کے بغیر نماز ناقص ہوگی باطل نہیں لہذا یہ واجب ہے فرض نہیں،نیز تعدیل فرض ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم انہیں اول ہی سے بتادیتے انہیں بغیر فرض ادا کیئے نماز بار بار پڑھنے کی اجازت نہ دیتے کیونکہ اس کے بغیرو ہ نمازیں بالکل بے کار تھیں اور فعل عبث تھا اور واجب کے بغیر ان نمازوں میں کچھ ثواب مل گیا۔

۷؎  اس سے معلو م ہوا کہ ہر رکعت میں تلاوت قرآن فرض ہے مگر یہ حکم فرض نماز کے علاوہ میں ہے فرض کی پہلی دو  رکعتوں میں تلاوت فرض باقی میں نفل، چونکہ ان بزرگ نے تحیۃ المسجد نفل ادا کیئے تھے لہذا انہیں یہ حکم دیا گیا۔

791 -[2]

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ بِ (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ)وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَوِّبْهُ وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عُقْبَةِ الشَّيْطَانِ وَيَنْهَى أَنْ يَفْتَرِشَ الرَّجُلُ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ وَكَانَ يخْتم الصَّلَاة بِالتَّسْلِيمِ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نماز تکبیر سے اور قرأت الحمدﷲ رب العالمین سے شروع کرتے تھے  ۱؎ اور جب رکوع کرتے تو اپنا سر نہ اونچا رکھتے نہ نیچا لیکن اس کے درمیان ۲؎  اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہوجاتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو دوسرا سجدہ نہ کرتے حتی کہ سیدھے بیٹھ جاتے اور ہر دو رکعتوں میں التحیات پڑھتے تھے۳؎ او ر اپنا بایاں پاؤں بچھاتے تھے اور دایاں پاؤں کھڑا کرتے تھے ۴؎ اور شیطان کی بیٹھک سے منع کرتے تھے ۵؎ اور اس سے منع کرتے تھے کہ کوئی شخص اپنی کہنیاں درندے کی طرف بچھادے ۶؎ اور اپنی نماز سلام سے ختم فرماتے تھے۔(مسلم)

 



Total Pages: 519

Go To