$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب صفۃ الصلوۃ

نماز پڑھنے کا طریقہ ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  اس باب میں نماز کے فرائض، واجبات،سنتیں اور مستحبات کا ذکر ہوگا یعنی اول سے آخر تک نماز کی ساری کیفیت کا ذکر۔

790 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «وَعَلَيْك السَّلَام ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» . فَرَجَعَ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ فَقَالَ: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الَّتِي بَعْدَهَا عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: «إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِّيَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا» . وَفِي رِوَايَةٍ: «ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا ثمَّ افْعَل ذَلِك فِي صَلَاتك كلهَا»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ ایک شخص مسجد میں آیا ۱؎ حالانکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم مسجد کے ایک کونہ میں جلوہ گر تھے اس نے نماز پڑھی ۲؎ پھر آیا حضور کو سلام کیا اس سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا وعلیکم السلام لوٹ جاؤ نماز پڑھو تم نے نماز  نہیں پڑھی ۳؎ وہ لوٹ گیا نماز پڑھی پھر آیا سلام کیا آپ نے فرمایا وعلیك السلام لوٹ جاؤ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی اس نے تیسری بار یا اس کے بھی بعد عرض کیا یارسول ا ﷲ مجھے سکھا دیجئے ۴؎ فرمایا جب تم نماز کی طرف اٹھو تو وضو پورا کرو پھر کعبے کو منہ کرو،پھرتکبیر کہو،پھر جس قدر قرآن آسان ہو پڑھ لو۵؎ پھر رکوع کرو حتی کہ رکوع میں مطمئن ہوجاؤ پھر اٹھو حتی کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ پھر سجدہ کرو حتی کہ سجدے میں مطمئن ہوجاؤ ۶؎ پھر اٹھو حتی کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ پھر سجدہ کرو حتی کہ سجدے میں مطمئن ہوجاؤ پھر اٹھو حتی کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ۔اور ایک روایت میں ہے پھر اٹھو حتی کہ سیدھے کھڑے ہوجاؤ پھر اپنی ساری نماز میں یہی کرو ۷؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یہ آنے والے حضرت خلاد ابن رافع انصاری ہیں جو جنگ بدر میں شہید ہوئے ،یہ واقعہ سیدنا ابوہریرہ نے اپنی نگاہ سے نہیں دیکھا بلکہ کسی صحابی سے سن کر بیان فرمارہے ہیں کیونکہ حضرت خلاد بدر     ۲ھ ؁میں شہید ہوگئے۔اور حضرت ابوہریرہ    ۷ھ؁ میں اسلام لائے مگر چونکہ تمام صحابہ عادل ہیں اس لیے دیکھنے والے کا نام مذکور نہ ہونا مضر نہیں۔

۲؎  غالبًا یہ نماز نفل تحیۃ المسجد تھے جو جلدی جلدی تعدیل ارکان کے بغیر ادا کرلیے گئے تھے یا اس میں کوئی اور نقصان رہ گیا تھا۔

۳؎  اس مضمون سے چند مسائل معلوم ہوئے: ایک یہ کہ مسجد نبوی میں آنے والا نمازیوں کو عمومی سلام الگ کرے اورحضور انور کو علیحدہ۔اب بھی زائرین حاضری شریف کے وقت دو رکعتیں پڑھ کر مواجہہ اقدس میں حاضری دے کر سلام عرض کرتے ہیں،اﷲ ہم سب کو نصیب کرے ۔دوسرے یہ کہ سلام میں علیکمبھی کہہ سکتے ہیں علیك بھی۔ تیسرے یہ کہ واجب رہ جانے سے نماز لوٹالینی



Total Pages: 519

Go To
$footer_html