Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

صوفیاء کے معتقد ہوگئے لہذا یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کی نفی نہیں کرتی بے علمی اور ہے اور بھول جانا کچھ اور ہماری بھول چوک نفسانی شیطانی ہوتی ہے،انبیاء کی بھول ایمانی و رحمانی،سارے انسانی عالم کا ظہور آدم علیہ السلام کی ایک بھول کا صدقہ ہے۔

1010 -[33] وروى مَالك عَن عَطاء بن يسَار نَحوه مُرْسلا

اور مالک نے عطا ابن یسار سے ارسالًا روایت کیا۔

 

1011 -[34]

وَعَنْ جَابِرِ قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي الظُّهْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فآخذ قَبْضَة من الْحَصَى لتبرد فِي كفي ن أَضَعُهَا لِجَبْهَتِي أَسْجُدُ عَلَيْهَا لِشِدَّةِ الْحَرِّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وروى النَّسَائِيّ نَحوه

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر پڑھتا تھا تو کنکریوں کی ایک مٹھی لے لیتا تھا ۱؎ تاکہ وہ میرے ہاتھ میں ٹھنڈی ہوجائیں انہیں اپنی پیشانی کی جگہ رکھ لیتا تاکہ ان پر سجدہ کروں سخت گرمی کی وجہ سے ۲؎(ابوداؤد)نسائی نے اس کی مثل۔

۱؎  نماز سے پہلے کچھ بجری ٹھنڈی کرکے سجدہ گاہ میں رکھ لیتا تھا نہ کہ نماز کے اندر،لہذا یہ حدیث بالکل واضح ہے۔

۲؎ یعنی فرش سخت گرم ہوتا تھا جس پر سجدہ کرنا مشکل ہوتا اس لیے یہ عمل کرتا لہذا اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم گرمیوں میں ظہر دوپہری میں پڑھتے تھے اور نہ یہ حدیث اس کے خلاف ہے کہ ظہر ٹھنڈی کرو،فرش بہت دیر تک گرم رہتا ہے لہذا یہ حدیث حنفیوں کے خلاف نہیں۔

1012 -[35]

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ» ثُمَّ قَالَ: «أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ» ثَلَاثًا وَبَسَطَ يَدَهُ كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهُ قَبْلَ ذَلِكَ وَ رَأَيْنَاكَ بَسَطْتَ يَدَكَ قَالَ: " إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ التَّامَّةِ فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أَخْذَهُ وَاللَّهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا يَلْعَبُ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَة. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابودرداء سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ کو یہ کہتے سنا کہ میں تجھ سے اﷲ کی پناہ مانگتا ہوں پھر فرمایا میں تجھ پر اﷲ کی لعنت کرتا ہوں تین بار اور اپنا ہاتھ بڑھایا گویا کچھ پکڑ رہے ہیں ۱؎  جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے کہا یارسول اﷲ ہم نے آپ کو نماز میں یہ کہتے سنا جو اس سے پہلے آپ کو کہتے نہ سنا تھا اور ہم نے آپ کو ہاتھ بڑھاتے دیکھا ۲؎ فرمایا کہ اﷲ کا دشمن ابلیس آگ کا شعلہ لایا تھا تاکہ اسے میرے منہ میں کرے ۳؎ میں نے تین بار کہا کہ میں تجھ سے اﷲ کی پناہ مانگتا ہوں پھر میں نے کہا میں تجھ پر اﷲ کی پوری لعنت کرتا ہوں وہ تین بار میں نہ ہٹا۴؎  پھر میں نے اسے پکڑنا چاہا خدا کی قسم اگر ہمارے بھائی سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو وہ بندھا ہوا سویرا کرتا جس سے مدینہ والوں کے بچے کھیلتے ۵؎(مسلم)

 



Total Pages: 519

Go To