Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے مگر مرفوع کے حکم میں ہے کیونکہ یہ چیز عقل سے وراءہے۔مطلب یہ ہے کہ دوزخی جب بہت تھک جایا کریں گے تو کوکھ پر ہاتھ رکھا کریں گے ورنہ دوزخ میں آرام کہاں۔اسی جگہ مرقاۃ نے فرمایا کہ شیطان جب زمین پر آیا تو کوکھ پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا اب بھی کوکھ پر ہاتھ رکھ کر ہی چلتا ہے۔لمعات میں ہے کہ یہ یہودیوں کا عمل ہے۔خیال رہے کہ حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنا جہنمیوں کا طریقہ ہے کیونکہ دوزخی نماز کہا ں پڑھیں گے بلکہ مطلب یہ ہے کہ نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنا سخت برا ہے کہ یہ طریقہ دوزخیوں کا ہے جنتی ہوکر دوزخیوں سے مشابہت کیوں کرتا ہے۔خیال رہے کہ نماز کے علاوہ بھی دونوں کوکھوں یا ایک کوکھ پر رکھنا یا پیٹھ کے پیچھے ہاتھ باندھنا بلاضرورت منع ہے یا ہاتھ کھلے رکھے یا نمازی کی طرح آگے باندھے۔

1004 -[27]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْتُلُوا الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ».رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَلِلنَّسَائِيِّ مَعْنَاهُ

روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نماز میں دو کالی چیزوں سانپ اور بچھو کو قتل کردو ۱؎(احمد،ابوداؤد) ترمذی اور نسائی نے اس کے معنے۔

۱؎  عربی میں اسود کالے سانپ کو کہتے ہیں یا مطلقًا ہر سانپ مراد ہے اور تغلیبًا سانپ بچھو،دونوں کو اَسْوَدَ یْن فرمادیا جیسے ماں بآپ کو اَبَوَیْن اور چاند سورج کو قَمَرَ یْن کہددیتے ہیں اگر نمازی بحالت نماز سانپ یا بچھو دیکھے تو اسے مار سکتا ہے اگر عمل قلیل سے مار دیا تو نماز نہ ٹوٹے گی اور اگر اس کے لیئے کعبہ سے سینہ پھر گیا یا متواتر تین قدم چلنا پڑا یا تین چوٹیں مارنی پڑیں تو نماز ٹوٹ جاوے گی دوبارہ پڑھنی ہوگی مگر یہ شخص نماز توڑ نے کا گنہگار نہ ہوگا اس حدیث کی اجازت کی وجہ سے کسی کی جان بچانے کے لیئے نماز توڑ دینا درست ہے یا ریل چھوٹ جانے پر مسافر نماز توڑ کر سوار ہوسکتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہرقسم کا سانپ مارنے کی اجازت ہے۔وہ حدیث کہ پتلا سانپ نہ مارو جو چلنے میں لہراتا نہ ہو کیونکہ وہ جنی ہے منسوخ ہے،ہاں اگر کسی سانپ میں جن کی علامت موجود ہو تو اگر دفع ضررکے لیئے اسے نہ مارے تو کوئی مضائقہ نہیں۔

1005 -[28]

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي تَطَوُّعًا وَالْبَابُ عَلَيْهِ مُغْلَقٌ فَجِئْتُ فَاسْتَفْتَحْتُ فَمَشَى فَفَتَحَ لِي ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلَّاهُ وَذَكَرْتُ أَنَّ الْبَابَ كَانَ فِي الْقِبْلَةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ وروى النَّسَائِيّ نَحوه

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نفل پڑھ رہے تھے ۱؎ اور دروازہ آپ پر بند تھا میں آئی دروازہ کھلوایا تو آپ چلے اور میر ے لیے کھول دیا پھر اپنے مصلی کی طرف لوٹ گئے اور آپ نے ذکر کیا کہ دروازہ جانب قبلہ تھا ۲؎ (احمد،ابوداود،ترمذی)نسائی نے اس کی مثل روایت کی۔

۱؎  نفل کا ذکر بیان واقعہ کے لیے ہے کیونکہ حضور علیہ السلام فرض مسجد میں ادا کرتے تھے نہ کہ حجرہ میں،نماز ٹوٹنے نہ ٹوٹنے میں نفل و فرض کے احکام یکساں ہیں۔

 



Total Pages: 519

Go To