Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

989 -[12]

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ أَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ ن وَإِن مِمَّا أحدث أَن لَا تتكلموا فِي الصَّلَاة» . فَرد عَليّ السَّلَام

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ ہم حبشہ جانے سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تھے حالانکہ آپ نماز میں ہوتے تو آپ ہم کو جواب دیتے تھے پھر جب ہم حبشہ سے لوٹے تو میں آپ کی خدمت میں آیا آپ کو نماز پڑھتے پایا میں نے آپ کو سلام کیا تو مجھے آپ نے جواب نہ دیا حتی کہ جب اپنی نماز پوری کی تو فرمایا اﷲ اپنے احکام میں جو چاہے نئے حکم دے اب جو نیا حکم بھیجا اس میں یہ ہے کہ نماز میں کلام نہ کرو پھر آپ نے مجھے سلام کا جواب دیا ۱؎

۱؎ یہ سلام کا جواب استحبابًا تھا تاکہ حضرت ابن مسعود کا دل خوش ہوجائے ورنہ اگر کوئی نمازی کو،تلاوت قرآن کرنے والے کو یا قضائے حاجت کرنے والے کو سلام کرے تو ان پر جواب دینا واجب نہیں کیونکہ ان حالتوں میں سلام کرنا سنت نہیں، مسنون سلام کا جواب واجب ہے نہ کہ ممنوع سلام کا،لیکن اگر فراغت کے بعد جواب دے دیا جائے تو بہتر ہے(لمعات)اس سے بہت سے مسائل مستنبط ہوسکتے ہیں۔

990 -[13]

وَقَالَ: «إِنَّمَا الصَّلَاةُ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ فَإِذا كنت فِيهَا ليكن ذَلِك شَأْنك» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اور فرمایا کہ نماز قرآن پڑھنے اور اﷲ کے ذکر کے لیے ۱؎ جب تم نماز میں ہو تو یہ ہی تمہارا حال ہونا چاہیے۔(ابوداؤد)

۱؎ یہاں اﷲ کے ذکر سے مراد تلاو ت کے علاوہ دوسرے اذکار ہیں تسبیحیں اور التحیات وغیرہ۔اس سے معلوم ہوا کہ نمازی کا التحیات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنا بھی اﷲ کا ذکر ہے جس سے نماز ناقص نہیں بلکہ کامل ہوتی ہے ورنہ کسی بندے کو مخاطب کرکے آیت پڑھنا بھی نماز توڑ دیتا ہے۔

991 -[14]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قُلْتُ لِبِلَالٍ: كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِم حِين حانوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَةِ النَّسَائِيِّ نَحوه وَعوض بِلَال صُهَيْب

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت بلال سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جواب کیسے دیتے تھے جب صحابہ آپ کو نماز میں سلام کرتے تو فرمایا کہ اپنے ہاتھ سے اشارہ کردیتے تھے ۱؎(ترمذی) اور نسائی کی روایت میں اسی طرح ہے اور بجائے بلال کے صہیب ہے۔

۱؎  شاید یہ اس وقت کا ذکر ہے جب کہ نماز میں زبانی سلام و جواب ممنوع ہوچکا تھا اشارے جائز تھے،پھر یہ بھی ممنوع ہوگیا۔چنانچہ خلاصۃ الفتاویٰ میں ہے کہ اگر نمازی سریا ہاتھ سے سلام کا جواب دے تو نماز ٹوٹ جائے گی۔ ظاہر یہ ہے کہ نماز فاسد نہ ہوگی مگر مکروہ ہوگی بہرحال اب اشارہ بھی منسوخ ہے اس حدیث سے ہی نسخ معلوم ہورہا ہے کیونکہ حضرت ابن عمر نے حضور علیہ السلام کو اشارہ کرتے دیکھا نہیں بلکہ سنا تھا،تو حضرت بلال سے پوچھا اگر اشارہ اخیر تک جاری رہتا تو آ پ دیکھ لیتے۔خیال رہے کہ سلام کے اشارے مختلف ہیں کبھی انگلی اٹھا کر کبھی پیشانی پر لگا کر کبھی داہنا ہاتھ الٹا کرکے یہاں تیسری صورت مراد ہے جیسا کہ ابوداؤد،ترمذی،نسائی کی احادیث میں ہے۔(اشعہ)

992 -[15]

وَعَن رِفَاعَة بن رَافع قَالَ: صليت خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَطَسْتُ فَقلت الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَ يَرْضَى فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ فَقَالَ: «مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ؟» فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَهَا الثَّانِيَةَ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ فَقَالَ رِفَاعَةُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدِ ابْتَدَرَهَا بِضْعَةٌ وَثَلَاثُونَ مَلَكًا أَيُّهُمْ يَصْعَدُ بِهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے رفاعہ ابن رافع سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی میں چھینکا تو کہہ لیا تمام تعریفیں اﷲ کی ہیں زیادہ اچھی اس میں برکت والی اس پر برکت جیسے ہمارا رب چاہے اور راضی ہوا  ۱؎ تو جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو پھرے اور فرمایا نماز میں کلام کرنے والا کون تھا کوئی نہ بولا پھر دوبارہ یہی فرمایا کوئی نہ بولا پھر سہ بار یہی فرمایا تو رفاعہ نے عرض کیا یارسول اﷲ میں ہوں۲؎ تب نبی کریم رؤف و رحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس میں تیس اور چند فرشتوں نے جلدی کی کہ کون انہیں لے کر چڑھے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)

 



Total Pages: 519

Go To