$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۳؎  یعنی میں اسے باندھ دیتا تو وہ کھل نہ سکتا نہ چھوٹ کر بھاگ سکتا اور پھر وہ سب پر ظاہر ہوجاتا تم سب اسے دیکھتے،ہمارے باندھنے کی برکت سے یہ غیب شہادت بن جاتا۔

۴؎  یعنی چونکہ جنات پر قبضہ حضرت سلیمان کا خصوصی معجزہ بن چکا ہے اگر اس قبضہ کو ہم ظاہر فرمادیتے تو یہ ان کی خصوصیت نہ رہتا اس لیے اسے چھوڑ دیا۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ شیطان کا جسم نجس نہیں اور اس کے چھونے سے نماز نہیں جاتی،نمازی کا ہاتھ نجس نہیں ہوتا۔دوسرے یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا خشوع و خضوع اور طرف متوجہ ہونے سے نہیں جاتا دیکھو حضور علیہ السلام نے شیطان کو پکڑ بھی لیا باندھنے کا ارادہ بھی کیا پھر چھوڑ بھی دیا مگر نماز کے خشوع میں کوئی فرق نہ آیا۔تیسرے یہ کہ حضور علیہ السلام کو اﷲ تعالٰی نے گزشتہ نبیوں کے کمالات بخشے مگر ان میں سے بعض کا اظہار نہ فرمایا تاکہ ان بزرگوں کی خصوصیات میں فرق نہ آئے۔چوتھے یہ کہ نبی کی طاقت جنات و فرشتوں سے زیادہ ہے کہ شیطان آپکی پکڑ سے چھوٹ نہ سکا،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ملک الموت کو تھپڑ مارا تو ان کی آنکھ جاتی رہی۔اس جگہ اشعۃ اللمعات میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سلطنت،قدرت،تصرف،ملک الموت جن وانس اور تمام عالم پر ہے،ہر شے آپ کے قبضہ میں ہے۔

988 -[11] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ»وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: «التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ والتصفيق للنِّسَاء»

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جسے نماز میں کوئی چیز پیش آجائے تو تسبیح پڑھے کیونکہ تالی عورتوں کے لیے ہے ایک روایت میں ہے کہ فرمایا تسبیح مردوں کے لیے ہے اور تالی عورتوں کے لیے ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎  یعنی اگر نمازی کو کوئی ایسا حادثہ پیش آجائے جس سے اسے بولنا پڑے مثلًا اسے کوئی پکار رہا ہے یا کوئی بے خبری میں سامنے سے گزرنا چاہتا ہے تو مرد تو زور سے سبحان اﷲ کہہ دے اور عورت بائیں ہاتھ کی پشت پر داہنی ہتھیلی مار دے تاکہ پکارنے والے اور گزرنے والے کو اسکا نماز میں ہونا معلوم ہوجائے۔اس سے معلوم ہوا کہ عورت کی آوا ز بھی عورت ہے نامحرم نہ سنے افسوس ان عورتوں پر جو گابجا کر اپنی آواز یں غیروں کو سنائیں۔خیال رہے کہ اگر نمازی عورت کا محرم بھی اسے پکارے یا سامنے سے گزرنے لگے تب بھی عورت تالی ہی بجائے کیونکہ اس کے لیئے قانون ہی یہ ہوگیا۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

989 -[12]

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ أَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ ن وَإِن مِمَّا أحدث أَن لَا تتكلموا فِي الصَّلَاة» . فَرد عَليّ السَّلَام

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ ہم حبشہ جانے سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تھے حالانکہ آپ نماز میں ہوتے تو آپ ہم کو جواب دیتے تھے پھر جب ہم حبشہ سے لوٹے تو میں آپ کی خدمت میں آیا آپ کو نماز پڑھتے پایا میں نے آپ کو سلام کیا تو مجھے آپ نے جواب نہ دیا حتی کہ جب اپنی نماز پوری کی تو فرمایا اﷲ اپنے احکام میں جو چاہے نئے حکم دے اب جو نیا حکم بھیجا اس میں یہ ہے کہ نماز میں کلام نہ کرو پھر آپ نے مجھے سلام کا جواب دیا ۱؎

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html