Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎  جمائی دفع کرنے کی تین صورتیں ہیں:ایک یہ کہ جمائی آتے وقت یہ سوچ لے کہ انبیاء کرام کو جمائی نہیں آتی تھی۔دوسرے یہ کہ نچلا ہونٹ دانت سے دبالے۔تیسرے یہ کہ ناک سے زور کے ساتھ سانس نکالے اگر دفع نہ ہوسکے تو بائیں ہاتھ کی انگلیوں کی پشت منہ پر رکھ لے

986 -[9]

وَفِي رِوَايَةِ الْبُخَارِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ وَلَا يَقُلْ: هَا فَإِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَان يضْحك مِنْهُ "

بخاری کی روایت میں حضرت ابوہریرہ سے ہے فرمایا تم میں سے کسی کو نماز میں جمائی آئے تو بقدر طاقت دفع کرے اور نہ کہے"ھا"کیونکہ یہ شیطان سے ہے کہ وہ اس سے ہنستا ہے ۱؎

۱؎  چنانچہ اگر نماز میں "ہاہ" منہ سے نکل جائے تو نماز جاتی رہے گی کہ اس میں تین حروف ادا ہوگئے اور اگر فقط "ہا" نکلا تو نماز مکروہ ہوگئی۔

987 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ صَلَاتِي فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ فَأَخَذْتُهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ عَلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ فَذَكَرْتُ دَعْوَةَ أَخِي سُلَيْمَانَ: (رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي)فَرَدَدْتُهُ خَاسِئًا "

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایک خبیث جن آج رات کھل گیا ۱؎ تاکہ میری نماز توڑ دے اﷲ نے مجھے اس پر طاقت دی میں نے اسے پکڑ لیا ۲؎ میں نے سوچا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون سے باندھ دوں تاکہ تم سب اسے دیکھو۳؎  لیکن مجھے اپنے بھائی سلیمان کی دعا یاد آگئی کہ مولا مجھے وہ ملک دے جو کسی کے لائق نہ ہو میرے بعد تو میں نے اسے ناکام چھوڑ دیا ۴؎(مسلم،بخاری)

۱؎ حضرت سلیمان علیہ السلام کی قید سے کہ آپ شیاطین کی ایک جماعت کو قید کر گئے تھے ان میں سے ایک چھوٹ کر میرے پاس آگیا اور میرے قلب میں وسوسے ڈالنے کی کوشش کرنے لگا۔معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام کی نگاہ جنات اور شیاطین کو دیکھتی ہے اور جہاں وہ بند ہیں وہ جگہ بھی حضور علیہ السلام کی نگاہ کے سامنے ہے اور حضور انکے ہر حال سے خبردار ہیں،قرآن کریم کا یہ فرمانا:"مِنْ حَیۡثُ لَا تَرَوْنَہُمْ" ہم لوگوں کے لیے ہیں حضور علیہ السلام اس سے علیحدہ ہیں جب حضور علیہ السلام کی نگاہ سے فرشتے نہیں چھپتے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج میں خود رب تعالٰی کو دیکھ لیا تو جنات و شیاطین کیسے چھپ سکتے ہیں۔خیال رہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنات کی ایک خبیث ترین جماعت کو قید کردیا تھا جو اب تک قید میں ہے کیونکہ جنات کی عمریں بڑی ہوتی ہیں ان کا یہاں ذکر ہے ورنہ اور جماعتیں شیاطین کی کھلی پھرتی ہیں۔

۲؎  حق یہ ہے کہ اﷲ تعالٰی نے حضور علیہ السلام کو دائمی طاقت بخشی،جس سے آپ شیاطین کو پکڑ سکتے ہیں۔حضرت ابوہریرہ نے شیطان کو صدقہ کا مال چوری کرتے ہوئے پکڑ لیا تو وہ آپ سے نہ چھوٹ سکا،حضرت معاویہ نے ایک شیطان کو پکڑ لیا تو وہ آپ سے نہ چھوٹ سکا جب ذرات کی طاقتوں کا یہ حال ہے تو آفتاب نبوت کی قدرت کا کیا پوچھنا۔اب بھی بعض عامل حضرات جنات کو قید کردیتے ہیں، جلادیتے ہیں۔

 



Total Pages: 519

Go To