Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎  خیال رہے کہ نماز میں کعبہ سے سینہ پھر جانا نماز کو توڑ دیتا ہے،صرف چہرہ پھرنا مکروہ ہے،کنکھیوں سے ادھر ادھر دیکھنا خلاف مستحب۔یہاں التفات سے غالبًا دوسرے معنے مراد ہیں جو مکروہ ہیں۔ممکن ہے تیسرے معنے مراد ہوں،ابھی معاویہ ابن حکم کی روایت میں گزر چکا کہ صحابہ نے انہیں گوشہ چشم سے دیکھا۔بعض روایات میں ہے کہ حضور علیہ السلام بھی کبھی اس طرح دیکھتے تھے وہ سب بیان جواز کے لیے ہے اور یہ حدیث بیان استحباب کے لیئے لہذا حدیثوں میں تعارض نہیں۔

983 -[6]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ رَفْعِهِمْ أَبْصَارَهُمْ عِنْدَ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ إِلَى السَّمَاءِ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارهم» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قومیں نماز میں دعا کے وقت آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے سے باز رہیں ورنہ ان کی نگاہیں چھین لی جائیں گی ۱؎(مسلم)

۱؎  یعنی نماز میں دعائیہ یا آخری دعا پڑھنے پر نہ ہاتھ اٹھائے نہ آسمان کی طرف نگاہ کہ یہ مکروہ ہے،خارج نماز ہاتھ بھی اٹھائے اور نگاہ بھی کیونکہ آسمان قبلہ دعا ہے جیسے کعبہ قبلہ نماز،سرکار علیہ السلام کا یہ فرمان اظہار آفتاب کے لیے ہیں۔خیال رہے کہ پہلے حضور علیہ السلام نماز میں کبھی آسمان کو دیکھا کرتے تھے جب یہ آیت اتری "الَّذِیۡنَ ہُمْ فِیۡ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوۡنَ" تب چھوڑ دیا۔تبدیلی قبلہ کے وقت حضور علیہ السلام کا نماز میں آسمان کی طرف دیکھنا آپ کی خصوصیت تھی کہ وہ نماز ناز تھی۔

984 -[7] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن أبي قَتَادَة قَالَتْ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ النَّاسَ وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ عَلَى عَاتِقِهِ فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا وَإِذَا رَفَعَ مِنَ السُّجُودِ أَعَادَهَا "

روایت ہے حضرت ابو قتادہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ لوگوں کی امامت کرتے تھے اور امامہ بنت ابی العاص آپ کے کندھے پر ہوتیں ۱؎ جب رکوع کرتے تو انہیں اتار دیتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو انہیں لوٹا لیتے ۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  آپ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی یعنی حضرت زینب کی بیٹی ہیں۔علی مرتضٰی نے فاطمہ زہرا کی وفات کے بعد آپ سے نکاح کیا،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے بڑی محبت تھی حتی کہ کبھی نماز میں بھی آپ کو کندھے پر رکھتے تھے۔

۲؎  حق یہ ہے کہ یہ عمل حضور علیہ السلام کی خصوصیت میں سے ہے ہمارے واسطے مفسد نماز ہے کیونکہ نمازمیں بچی کو اتارنا چڑھانا اور روکنا عمل کثیر سے خالی نہیں،علماء نے اس کی بہت سی توجیہیں کی ہیں مگر جو فقیر نے کہا وہ حق ہے۔

985 -[8]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی نماز میں جمائی لے تو جہاں تک ہوسکے دفع کرے کیونکہ شیطان داخل ہوجاتا ہے ۱؎(مسلم)

 



Total Pages: 519

Go To