Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

چھپی چیزیں چوری کے مال کا پتہ بتاتے ہیں،کاہنوں سے غیبی چیزیں پوچھنا گناہ کبیرہ بلکہ قریب کفر ہے اس کی بحث ان شاء اﷲ باب الکہانت میں ہوگی۔

۱۱؎  کفار عرب میں فال کے بہت طریقے تھے:ان میں سے ایک پرندے اڑانا تھا کہ اگر کسی کام کو چلے اور راستہ میں کوئی چڑیا بیٹھی ملی اسے اڑایا،اگر دائیں طرف اڑی تو سمجھے کامیابی ہے اگر سیدھی اڑھے تو سمجھے کامیابی میں دیر ہے اور اگر بائیں طرف اڑی تو ناکامی کا یقین کرکے واپس لوٹ آئے۔حضور علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ یہ ان کے نفسیاتی وسوسے ہیں رب پر توکل چاہیے اور ایسے وہمیات کی بنا پر کام چھوڑنا نہیں چاہیے۔فال کی بحث انشاءاﷲ باب الفال میں آئے گی۔

۱۲؎  لکیریں کھینچنے سے مراد رمل ہے جس میں خطوط کے ذریعہ غیبی بات معلوم کی جاتی ہے جیسے علم جفر میں عددوں سے،علم رمل حضرت دانیال کا معجزہ تھا اور علم جفر حضرت ادریس علیہ السلام کا جس کو ان بزرگوں کی خطوط یا اعداد سے مناسبت ہوگی،اس کا درست ہوگا ورنہ غلط۔بعض علماء نے اس حدیث سے دلیل پکڑی کہ عمل رمل اور جفر جائز ہے لیکن بغیر کمال اس پر اعتماد نہیں کرسکتے۔

۱۳؎ یعنی میں نے لٰکِنِّیْ سَکَتُّ کو صحیح مسلم میں پایا اور جامع اصول میں لٰکِنِّیْ پر لفظ کَذَا لکھا ہے جو اس کی صحت کی علامت ہے کیونکہ وہ صحیح پر لفظ کَذَا لکھ دیا کرتے ہیں۔

979 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَيْكَ فِي الصَّلَاةِ فَتَرُدُّ عَلَيْنَا فَقَالَ: إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا "

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کہ وہ نماز میں ہوتے سلام کرتے تھے آپ ہمیں جواب دیتے تھے ۱؎ جب ہم نجاشی کے پاس سے لوٹے ۲؎ تو ہم نے آپ کو سلام کیا آپ نے ہمارا جواب نہ دیا ہم نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کو نماز میں سلام کرتے تھے اور آپ جواب دیتے تھے فرمایا نماز میں مشغولیت ہے۳؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  یعنی ہجرت سے پہلے نماز میں کلام و سلام سب جائزتھا اس بنا پرحضور علیہ السلام بحالت نماز سلام کا جواب دیتے تھے ان حضرات کے حبشہ جانے کے بعد کلام منسوخ ہوا۔خیال رہے کہ "وَقُوۡمُوۡا لِلہِ قٰنِتِیۡنَ" سورۂ بقر میں ہے سورۂ بقر مدنی ہے لہذا نسخ کلام بعد ہجرت ہوا۔

۲؎  نجاشی بادشاہ حبشہ کا لقب تھا جیسے فرعون بادشاہ مصر کا،حضور علیہ السلام کے زمانہ کے نجاشی کا نام اصحمہ تھا اس نے مظلوم صحابہ کو اپنے ملک میں امن دی اور انہی کے ذریعہ حضور علیہ السلام پر غائبانہ ایمان لایا اور انہی کی معرفت حضور علیہ السلام کی بارگاہ میں بہت سے تحفے بھیجے،حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان جو ایمان لاکر حبشہ ہجرت کرگئی تھیں،اصحمہ ہی نے ان کا غائبانہ نکاح حضور علیہ السلام سے کیا،جب حضور علیہ السلام مدینہ پاک تشریف لائے تو حبشہ کے مہاجر صحابہ مدینہ منورہ میں آگئے،ان بزرگوں کو صاحبِ ہجرتین کہتے ہیں،انہی اصحمہ اور ان کے ساتھیوں کا ذکر قرآن کریم نے بہت شان سے کیا ہے۔"وَ



Total Pages: 519

Go To