Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

الفصل الثالث

تیسری فصل

972 -[14]

عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا إِمَامٌ لَنَا يُكْنَى أَبَا رِمْثَةَ قَالَ صَلَّيْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ أَوْ مِثْلَ هَذِهِ الصَّلَاةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَقُومَانِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ عَنْ يَمِينِهِ وَكَانَ رَجُلٌ قَدْ شَهِدَ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ فَصَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ خَدَّيْهِ ثُمَّ انْفَتَلَ كَانْفِتَالِ أَبِي رِمْثَةَ يَعْنِي نَفْسَهُ فَقَامَ الرَّجُلُ الَّذِي أَدْرَكَ مَعَهُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ يَشْفَعُ فَوَثَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ فَأَخَذَ بمنكبه فَهَزَّهُ ثُمَّ قَالَ اجْلِسْ فَإِنَّهُ لَمْ يُهْلِكْ أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ صلواتهم فَصْلٌ. فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَره فَقَالَ: «أصَاب الله بك يَا ابْن الْخطاب» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ازرق ابن قیس سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم کو ہمارے امام نے نماز پڑھائی جن کی کنیت ابو رمثہ تھی انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہی نماز یا اس کی مثل کوئی اور نماز رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی ۲؎ فرمایا کہ حضرت ابوبکر و عمر اگلی صف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے کھڑے ہوتے تھے۳؎ اور ایک شخص نماز کی پہلی تکبیر میں حاضر ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ کر داہنے بائیں سلام پھیرا حتی کہ ہم نے آپ کے رخساروں کی سفیدی دیکھی۴؎  پھر ابو رمثہ یعنی میرے طرف پھرے ۵؎  تو جس نے نماز کی پہلی تکبیر پائی تھی وہ نفل پڑھنے کھڑا ہوگیا ۶؎ تب حضرت عمر جلدی اٹھے اور اس کے کندھے پکڑکر ہلائے پھر فرمایا بیٹھ جا ۷؎ کیونکہ اہل کتاب صرف اسی لیے ہلاک ہوئے کہ ان کی نمازوں کے درمیان فاصلہ نہ تھا ۸؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ اٹھا کر فرمایا کہ اے خطاب کے بیٹے اﷲ تمہیں مصیب رکھے ۹؎(ابوداؤد)

۱؎ آپ تابعی ہیں،حارثی ہیں،بصرہ میں پیدائش ہوئی،کوفہ میں قیام رہا،عالم باعمل تھے،    ۱۲۱ھ؁ میں وفات ہوئی۔

۲؎  ابو رمثہ صحابی ہیں،انہوں نے تابعین کو نماز ظہر یا عصر پڑھا کر یہ فرمایا کہ ہم نے ایک بار یہی نماز یا دوسری کوئی اور نماز حضور علیہ السلام کے پیچھے پڑھی تھی تو یہ واقعہ پیش آیا۔

۳؎ کیونکہ حضور علیہ السلام کے پیچھے افضل صحابہ کھڑے ہوا کرتے تھے تاکہ بوقت ضرورت ان نمازیوں میں حضور علیہ السلام انہیں امام بنا کر خود وضو کے لیے جاسکیں۔ اس سے معلوم ہواکہ پہلی صف کا داہنا حصہ باقی مقامات سے افضل ہے۔

۴؎ یعنی داہنی طرف والوں نے داہنے رخسار کی سفیدی دیکھی اور بائیں والوں نے بائیں رخسار کی" رَاَیْنَا"جمع فرمایا۔تکبیر اولیٰ سے مراد تکبیر تحریمہ ہے اس کے پانے کی صورت یہ ہے کہ امام کے قرأت شروع کرنے سے پہلے مقتدی سبحان سے فارغ ہو جائے اس کے بارے میں کچھ اوربھی قول ہیں۔

۵؎ یعنی بعد سلام دعا مانگنے کے لیے داہنی جانب منہ کرکے بیٹھے جیسے میں بیٹھا ہوں۔

۶؎  یعنی وہ شخص مسبوق نہ تھا تاکہ فرض کی بقیہ رکعتیں پوری کرنے کھڑا ہوتا بلکہ مدرک تھا جو بعد والی سنتیں پڑھنے کے لیئے دعا مانگے بغیر کھڑا ہوا۔

 



Total Pages: 519

Go To