Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

کرے،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک دھاگے میں ہزار گرہیں لگالیں تھیں جن پر کبھی شمار کیا کرتے تھے۔(مرقاۃ) فقہاء نے تسبیح پر گننے کو بدعت نہ کہا ہے یعنی بدعت مسنہ جس کی اصل صحابی سے ثابت ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

968 -[10]

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: «جَوْفُ اللَّيْلِ الآخر ودبر الصَّلَوَات المكتوبات» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے ۱؎ فرمایا عرض کیا گیا یا رسول اﷲ کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ فرمایا آخری رات کے بیچ میں اور فرض نماز کے بعد ۲؎(ترمذی)

۱؎  آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے کہ آپ قبیلہ باہلہ سے ہیں،حمص میں قیام رہا حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی وفات کےوقت آپ ۳۰یا ۳۳ سال کے تھے،۹۱ سال عمر پائی،    ۸۱ھ؁  یا   ۸۶ھ؁  حمص ہی میں وفات پائی رضی اﷲ عنہ،آپ کی روایات بہت تھوڑی ہیں۔

۲؎ یعنی دو وقت دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں ایک تو آخری رات کے بیچ میں۔دوسرے فرض نمازوں کے بعد۔خیال رہے کہ آخر جوف کی صفت ہے یعنی رات کا درمیانی حصہ جو آخری شب میں ہے اس طرح کہ رات کے دو حصے کرو،آخری آدھے کا درمیانی حصہ لو یہی وقت تہجد کے لیے بہتر ہے اس وقت دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں اور فرض نماز سے یا تو خود فرائض مراد ہیں یا پوری نماز،لہذا بہتر یہ ہے کہ نماز پنج گانہ میں فرضوں کے بعد بھی مختصر دعا مانگے اور پھر سنت و نفل سے فارغ ہو کر بھی دعا کرے کہ یہ ساری نماز فرض نماز شمار ہے۔

969 -[11]

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ بِالْمُعَوِّذَاتِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ. رَوَاهُ احْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہر نماز کے بعد اعوذ والی سورتیں پڑھ لیا کرو ۱؎ (احمد،ابوداؤد،،نسائی،بیہقی، دعوات کبیر)

۱؎  ظاہر یہ ہے کہ اَعُوْذُ والی سورتوں سے مراد"قُلْ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ"اور"قُلْ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ"ہے کہ اس میں اَعُوْذُ صراحۃً مذکور ہے،بعض نے فرمایا کہ "قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ"اور "قُلْ ہُوَاللہُ"بھی اس میں شامل ہیں کہ اگرچہ ان دونوں میں صراحۃً اَعُوْذُ موجود نہیں مگر مقصود وہاں بھی رب کی پنا مانگنا ہے اس پر اکثر صوفیاء کا عمل ہے کہ ہر نماز کے بعد یہ چاروں قل پڑھتے ہیں۔ہر نماز سے مراد فرض نماز ہے اگر جنازہ کی نماز کے بعد یہ چار سورتیں پڑھ کر میت کو بخشی جائیں تو بھی بہتر ہے۔

970 -[12]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَلَأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کہ میرا ان لوگوں سے بیٹھنا جو فجر کی نماز سے سورج نکلنے تک اﷲ کا ذکر کرتے ہیں مجھے اس سے زیادہ پیارا ہے کہ اولاد اسماعیل کے چار غلام آزاد کروں ۱؎ اور میرا اس قوم کے ساتھ بیٹھنا جو عصر کی نماز سے سورج ڈوبنے تک اﷲکا ذکر کریں مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ چار غلام آزاد کردوں ۲؎(ابوداؤد)

 



Total Pages: 519

Go To