Book Name:Qasam kay baray main Madani Phool

قراٰن اُٹھانا قسم ہے یا نہیں ؟

          قراٰنِ کریم کی قسم کھانا ، قَسَم ہے،  البتّہ صِرف قراٰنِ کریم اُٹھا کر یا بیچ میں  رکھ کر یا اُس پر ہاتھ رکھ کر کوئی بات کرنی  قسم نہیں ۔  ’’  فتاوٰی رضویہ ‘‘ جلد13صَفْحَہ574 پرہے:  جھوٹی بات پر قراٰنِ مجید کی قسم اُٹھانا سخت عظیم گناہ ِکبیرہ ہے اور سچّی بات پر قراٰنِ عظیم کی قسم کھانے میں  حَرَج نہیں  اورضَرورت ہو تو اُٹھا بھی سکتا ہے مگریہقَسَم کو بَہُت سخت کرتا ہے،  بِلاضَرورتِ خاصّہ نہ چاہئے۔نیز صَفْحَہ 575 پرہے:  ہاں مُصحَف (یعنی قراٰن)  شریف ہاتھ میں  لے کر یا اُس پر ہاتھ رکھ کر کوئی بات کہنی اگر لفظاً حَلف وقَسَم کے ساتھ نہ ہو حَلفِ شَرعی نہ ہو گا  (یعنی قراٰنِ کریم کو صِرف اُٹھانے یا اُس پر ہاتھ رکھنے یا اُسے بیچ میں  رکھنے کو شرعاً قَسَم قرار نہ دیا جائے گا)  مَثَلاً کہے کہ میں  قراٰنِ مجید پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں  کہ ایسا کروں  گا اورپھر نہ کیا تو ( چونکہ قسم ہی نہیں  ہو ئی تھی اس لئے)  کفّارہ نہ آئے گا۔ واللّٰہُ تعالٰی اَعلم۔

دو عِبرت ناک فتاوٰی

 {۱}  شرابی نے قراٰن اُٹھا کر قَسَم کھائی پھر توڑدی! ! !

          فتاوٰی رضویہ جلد13صَفْحَہ609 پرایک شرابی کے بارے میں  حکم دریافت کرتے ہوئے کچھ اِس طرح پوچھا گیا ہے کہ اُس نے چار گواہوں  کے سامنے قراٰنِ کریم اُٹھا کر قسم کھائی کہ آیَندہ شراب نہ پیوں  گا مگر پھر پی لی ۔ اُس کے تفصیلی جواب کے آخِر میں  اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : اگر اس نے قراٰن اٹھا کر قراٰن کے نام سے قسم کھائی یا اللہ تَعَالٰی کے نام سے قسم کھائی اور زبان سے ادا بھی کی ہو پھر قسم توڑدی ہے تو اس پر کفّارہ لازم ہے۔ اور اگراُس نے قراٰنِ مجید اٹھا کر قسم کھائی ہے اوربَہُت سخت مُعامَلہ ہے کہ قراٰن اُٹھا کر اُس نے اِس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پھر سے شراب نَوشی کی ہے جس سے قراٰنِ پاک کی توہین تک مُعامَلہ پہنچا اور  (اُس نے ) قراٰن کے عظیم حق کی پامالی کی ہے تو اس سخت کارروائی (یعنی جبکہ لفظ قسم نہ کہا ہو صِرف قراٰنِ کریم اٹھایا ہو اِس)  پرکَفّارہ نہیں  ہے بلکہ اس کے لئے اس پر لازِم ہے کہ فوراً توبہ کرے اور اُس بُرے فِعل  (یعنی شراب نوشی)  کو آ یَندہ نہ کرنے کاپُختہ قَصد (یعنی پکّی نیّت)  کرے ورنہ پھر اللہ تَعَالٰی کی طرف سے درد ناک عذاب اورجہنَّم کی آگ کا انتِظار کرے۔ وَالْعِیاذُ بِاللّٰہِ تعالٰی (یعنی اور اس سے اللہ تَعَالٰی کی پناہ) ۔ اور اگر زَبان سے قسم ادا نہیں  کی بلکہ اُسی قراٰن اُٹھانے کو قسم قرار دیا تو اِس قسم کا وُہی حکم ہے کہ اس پر کفّارہ نہیں  بلکہ عذابِ الیم کا انتِظار کرے۔

 {۲} جھوٹی قَسم کھانے والا جہنَّم کے کھولتے دریا میں  غوطے دیا جائیگا

   سُوالـ: خدا کی جھوٹی قسم کھانے پر کیا کفّارہ دینا چاہئے ؟اگر ایک ہی وَقت میں  کئی مرتبہ جھوٹی قسم خدا کی کھائے تو ایک کفّارہ دے یا ہر ایک قسم کا علیٰحَدہ علیٰحَدہ ؟ جواب :  جھوٹی قسم گزَشتہ بات پر دانِستہ  (یعنی جان بوجھ کر کھائی تو) ،  اُس کا کوئی کفّارہ نہیں ،  اس (جھوٹی قَسم)  کی سزا یہ ہے کہ جہنَّم کے کَھولتے دریا میں  غَوطے دیاجائے گا ۔ اور آیَندہ (کی)  کسی بات پر قسم کھائی اور وہ نہ ہو سکی تو اُس کا کَفّارہ ہے ، ایک قسم کھائی ہوتو ایک اور دس  (کھائی ہوں ) تو دس۔وَاللّٰہُ تَعالٰی اَعلم۔ (یعنی اور اللہ تَعَالٰی سب سے زیادہ جاننے والا ہے)

بکثرت قَسَم کھانے کی مُمُانَعَت

ربِ کریم  عَزَّ وَجَلَّکاپارہ2 سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ کی آیت 224میں  فرمانِ عظیم ہے :

وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ

 ترجمۂ کنزالایمان.: اور اللہ  کو اپنی قسموں  کا نشانہ نہ بنالو۔

            صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیاس آیت کے تَحت لکھتے ہیں : بعض مُفَسِّرین (رَحِمَہُمُ اللہُ المُبِین)  نے یہ بھی کہاہے کہ اس آیت سے بکثرت قسم کھانے کی مُمانَعَت ثابِت ہوتی ہے۔  ( حاشیۃُ الصّاوی ج۱ص۱۹۰)

           حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم نَخَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیفرماتے ہیں :  جب ہم چھوٹے چھوٹے تھے تو ہمارے بُزُرگ قسم کھانے اور وعدہ کرنے پر ہماری پِٹائی کرتے تھے ۔

 (صَحیح بُخاری ج ۲ص۵۱۶حدیث۳۶۵۱)

تُو جھوٹی قسموں  سے مجھ کو سدا بچا یا ربّ!

نہ بات بات پہ کھاؤں قسم،  خدا یا ربّ!

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

  ’’  چُپ رہو سلامت رہو گے ‘‘ کے پندَرہ حُرُوف کی نسبت سے قَسَم کے مُتعلِّق 15مَدَنی پھول

          دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1182 صَفحات پر مشتمل کتاببہارِ شریعت جلد2 صَفْحَہ 298 تا 311اور319 سے  قسم اور کَفّارے سیمُتَعلِّق15 مَدَنی پھول پیش کئے جاتے ہیں  ،  (ضرورتاً کہیں  کہیں  تصرُّف کیا گیا ہے)

بات بات پر قسم نہیں  کھانی چاہئے

           {1} قسم کھانا جائز ہے مگر جہاں  تک ہو کمی بہتر ہے اور بات بات پر قسم کھانی نہ چاہیے اور بعض لوگوں  نے قسم کو تکیہ کلام بنا رکھاہے (یعنی دورانِ گفتگوباربارقسم کھانے کی عادت بنارکھی ہے)  کہ قَصد و بے قَصد (یعنی اِرادتاً اوربِغیرارادے کے)  زَبان سے (قسم)  جاری ہوتی ہے اور اس کابھی خیال نہیں  رکھتے کہ بات سچّی ہے یا جھوٹی!  یہ سخت مَعیوب (یعنی بَہت بُری بات )  ہے اور غیرِ خدا کی قسم مکروہ ہے اور یہ شَرعاً  قسم بھی نہیں  یعنی اس کے توڑنے سے کفّارہ لازِم نہیں ۔

 



Total Pages: 11

Go To