Book Name:Qasam kay baray main Madani Phool

کَفّارہ ادا کرنے کا طریقہ

              {3}  (دس) مَساکین کو دونوں  وَقت پیٹ بھر کر کھلانا ہوگااور جن مَساکین کو صبح کے وَقت کھلایا اُنھیں  کو شام کے وَقت بھی کِھلائے،  دوسرے دس مساکین کو کِھلانے سے (کفّارہ)  ادانہ ہوگا۔ اور یہ ہوسکتا ہے کہ دَسوں  کو ایک ہی دن (دونوں  وَقت)  کھلادے یا ہرروزایک ایک کو  (دو وقت) یا ایک ہی کو دس دن تک دونوں  وَقت کھلائے۔ اورمَساکین جن کو کھلایا ان میں  کوئی بچّہ نہ ہو اور کھلانے میں  اِباحَت (کھانے کی اجازت دے دینا )   وتَملیک (تَم۔لِیک ۔یعنی مالِک بنا دینا کہ چاہے کھائے چاہے لے جائے ) دونوں  صورَتیں  ہوسکتی ہیں  اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کھلانے کے عِوَض (یعنی بجائے)  ہرمِسکین کونِصف  (یعنی آدھا) صاع گیہوں  یا ایک صاع جَو  ( ایک صاع 4کلو میں سے 160گرام کم اورنِصف یعنی آدھا صاع 2کلو میں سے 80گرام کم کاہوتاہے)   یا ان کی قیمت کا مالِک کردے یا دس روز تک ایک ہی مسکین کو ہر روزبَقَدَرِصَدَقۂ فِطردے دیا کرے یا بعض کو کِھلائے اور بعض کو دیدے ۔ غَرَض یہ کہ اُس کی ( یعنی کَفّارہ ادا کرنے کی)  تمام صورَتیں  وَہیں  سے (یعنی مکتبۃُ المدینہکی مطبوعہ بہارِ شریعت جلد 2صَفْحَہ 205 تا217 پر دیئے ہوئے  (ظِہار کے )  کفّارے کے بیان سے )  معلوم کریں  فرق اِتنا ہے کہ وہاں  (یعنی ظِہار کے کفّارے میں )  ساٹھ مسکین تھے (جبکہ)  یہاں   (یعنی قَسَم کے کَفّارے میں )  دس ہیں۔   (دُرِّمُختارو رَدُّالْمُحتارج۵ ص ۵۲۳)  

کَفّارے کیلئے نیّت شَرط ہے

           {4} کَفَّارہ ادا ہونے کے لیے نیّت شَرط ہے بِغیر نیّت ادانہ ہوگا ہاں  اگروہ شے جو مسکین کو دی اور دیتے وَقت نیّت نہ کی مگر وہ چیز ابھی مِسکین کے پاس موجود ہے اور اب نیَّت کرلی تو ادا ہوگیا جیسا کہ زکوٰۃ میں  فقیر کو دینے کے بعد نیّت کرنے میں  یِہی شَرط ہے کہ ہُنُوز (یعنی ابھی تک)  وہ چیز فقیر کے پاس باقی ہو تو نیّت کام کرے گی ورنہ نہیں ۔

 (حاشیۃُ الطّحطاوی علی الدّرالمختارج۲ص ۱۹۸)

  {5} رَمَضان میں  اگر کَفَّارے کا کھانا کھلانا چاہتاہے تو شام اورسَحری دونوں  وَقت کھلائے یا ایک مِسکین کو 20 دن شام کا کھانا کھلائے۔    (الجوھرۃ النیرہ  ص ۲۵۳)

کفَّارے میں  تین روزوں  کی اجازت کی صورت

         {6}  اگر غلام آزاد کرنے یا10مِسکین کو کھانا یا کپڑے دینے پر قادِر نہ ہو توپے دَرپے  (یعنی لگا تار)  تین روزے رکھے۔  (اَیضاً)

کَفّارہ ادا کرتے وَقت کی حیثیت کا اعتبار ہے کہ روزے رکھے یا۔۔۔

         {7} عاجِز  (یعنی مجبور) ہونا اُس وَقت کامُعتَبر ہے جب کفّارہ ادا کرنا چاہتا ہے مَثَلاً جس وَقت قسم توڑی تھی اُس وَقت مالدار تھا مگر کفّارہ ادا کرنے کے وَقت (مالی اِعتِبار سے)  مُحتاج ہے تو روزے سے کَفَّارہ ادا کرسکتا ہے اور اگر (قسم)  توڑنے کے وَقت مُفلِس (و مسکین)  تھا اور اب  (کفّارہ ادا کرنے کے وقت )  مالدار ہے تو روزے سے  (کَفَّارہ)  نہیں  ادا کرسکتا۔ (الجوھرۃ النیرہ  ص ۲۵۳وغیرہا)

کَفّارے کے تینوں  روزے پے در پے ہونا ضَروری ہیں

          {8} ایک ساتھ  (اگر) تین روزے نہ رکھے یعنی درمِیان میں  فاصِلہ کردیا تو کفّارہ ادا نہ ہوا اگرچِہ کسی مجبوری کے سبب ناغہ ہوا ہو،  یہاں  تک کہ عورت کو اگرحَیض آگیا تو پہلے کے روزے کا اِعتبار نہ ہوگا یعنی اب پاک ہونے کے بعد (نئے سِرے سے)  لگاتار تین روزے رکھے۔ (دُرِّمُختارج۵ص۵۲۶)

روزوں  سے کَفّارے کی ایک ضَروری شَرط

         {9} روزوں  سے کَفّارہ ادا ہونے کے لیے یہ بھی شَرط ہے کہ ختم تک  (یعنی تینوں  روزے مکمَّل ہونے تک ) مال پر قدرت نہ ہو مَثَلاً اگر دورَوزے رکھنے کے بعد اِتنا مال مل گیا کہ کَفّارہ ادا کر سکتا ہے تو اب روزوں  سے (کَفّارہ ادا)  نہیں  ہوسکتابلکہ اگرتیسرا روزہ بھی رکھ لیا ہے اورغُروبِ آفتاب سے پہلے مال پر قادِر ہوگیا تو روزے ناکافی ہیں  اگرچِہ مال پر قادِر ہونا یوں  ہوا کہ اُس کے مُورِث (یعنی وارِث بنانے والے)  کا انتِقال ہوگیا اور اُس کوتَرکہ (یعنی وِرثہ)  اتنا ملے گا جو کَفّارے کے لیے کافی ہے۔  (دُرِّمُختارج۵ص۵۲۶)

کَفّارے کے روزے کی نیّت کے دو اَحکام

          {10} ان روزوں  میں  رات سے نیّت شَرط ہے اور یہ بھی ضَرور ہے کہ کفّارے کی نیّت سے ہوں  مُطلَق روزے کی نیّت کافی نہیں ۔  ( مبسوط ج۴ ص ۱۶۶)

قسم توڑنے سے پہلے کفّارہ دیا تو ادا نہ ہو۱

         {11} قسم توڑنے سے پہلے کَفّارہ نہیں ،  اور (اگر دے بھی)  دیا تو ادا نہ ہوا یعنی اگر کفّارہ دینے کے بعد قسم توڑی تو اب پھر دے کہ جو پہلے دیا ہے وہ کفّارہ نہیں  ،  مگر فقیر سے دیے ہوئے کو واپَس نہیں  لے سکتا۔ (فتاوٰی عالمگیری ج ۲ ص ۶۴ )  

کَفّارے کا مُستحِق کون؟

             {12} کفّارہ اُنھیں مَساکِین کو دے سکتاہے جن کو زکوٰۃ دے سکتا ہے یعنی اپنے باپ،  ماں ، اولاد وغیرہُم کو جن کو زکوٰۃ نہیں  دے سکتا کَفّارہ بھی نہیں  دے سکتا ۔  (دُرِّمُختارج۵، ص۵۲۷)   {13}  کَفّارۂ قَسَم کی قیمت مسجِد میں  صَرف  (یعنی خرچ) نہیں  کرسکتا نہ مُردے کے کفن میں  لگا سکتا ہے یعنی جہاں  جہاں  زکوٰۃ نہیں  خَرچ کر سکتا وہاں  کَفّارے کی قیمت نہیں  دی جا سکتی۔ (عالمگیری ج ۲ ص ۶۲)  ( قسم اور کفّارے کے بارے میں  تفصیلی معلومات کیلئے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1182 صَفحات پر مشتمل کتاب بہارِ شریعت جلد2  صَفْحَہ 298 تا 311کا مُطالَعہ ضَروری ہے )

دینی یا سماجی ادارے کو کَفّارے کی رقم دینے کا اہم مسئلہ

   اگر کسی دینی یامسلمانوں  کے سماجی ادارے کو کَفّارے کی رقم دینا چاہے تو دے سکتا ہے مگر بتانا ہوگا کہ یہ کَفّارے کی رقم ہے تا کہ وہ اُس رقم کو الگ رکھ کر اُسے بیان کردہ طریقے پر کام میں  لائیں  یعنی ایک ہی مسکین کو دس دن تک دونوں  وَقت کھلانا یا دس مَساکین کو دونوں  وَقت کِھلانا وغیرہ ۔اگر دینی ادارہ دینی کاموں  میں  صَرف کرنا چاہے تو حیلہ کرنے کا طریقہ یہ ہے ،  مَثَلاً ایک ہی مسکین کو روزانہ ایک صدقۂ فطر یا دس مسکینوں  کو ایک ہی دن میں  ایک ایک صَدَقۂ فِطر کا مالِک بنا یا جائے اوروہ اپنی طرف سے دینی کاموں  کیلئے پیش کریں ۔

 



Total Pages: 11

Go To