امّ المؤمنین حضرت  سیّدتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِی اللہُ تَعَالٰی  عنْہَا

سب سے پہلے حُضُورپُرنورصلَّی اللہُ تعالٰی علیْہ واٰلِہٖ وسلَّم کے عقدِنکاح میں آنے والی خوش نصیب خاتون  ام المؤمنین حضرت سیدتُنا خدیجۃُ الکبری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا ہیں،آپ کا نام خدیجہ بنتِ خویلد،والِدہ کا نام فاطمہ ہے۔(اسد الغابہ،ج 7، ص81) آپ کی کنیت اُمُّ الْقَاسِم، اُمِّ ھِند اور القاب الکبریٰ، طاھِرہ اور سَیِّدَۃُ قُرَیْش ہیں، آپ کی ولادت عامُ الفیل سے 15سال پہلے مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ عقدِ نکاحنبیِّ کرِیم صلَّی اللہُ تعالٰی علیْہ واٰلِہٖ وسلَّم کے کردارو عمل سے مُتاثِر ہو کر  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا  نے پیغامِ نکاح بھیجا جسے حُضُورِ انور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے قبول فرمایا ، یوں یہ بابرکت نکاح آپ صلَّی اللہُ تعالٰی علیْہ واٰلِہٖ وسلَّمکے سفرِ شام سے واپسی کے2ماہ 25دن بعد منعقد ہوا۔ (المواہب اللدنیہ، ج1، ص101)اس وقت حضرت خدیجہ کی عمر  مبارک 40 برس تھی(الطبقات الکبرٰی ،ج8، ص13) رب عزوجل کا سلام ایک بار جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَام نے بارگاہِ رِسالت میں حاضر ہو کر عرض کی: یا رَسولَ اللہ! صلَّی اللہُ تعالٰی علیْہ واٰلِہٖ وسلَّم آپ کے پاس حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا برتن لارہی ہیں جس میں کھانا اورپانی ہے جب وہ آجائیں توانہیں ان کے رب کا اور میراسلام کہہ دیں اوریہ بھی خوشخبری سنا دیں کہ جنت میں ان کے لئے موتی کا ایک گھر بناہے جس میں نہ کوئی شور ہو گااور نہ کوئی تکلیف۔ ( بخاری،ج2، ص565، حدیث:3820) نماز سے محبت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا  نمازکی فرضیت سے پہلے بھی نماز ادا فرماتی تھیں۔( فتاویٰ رضویہ،ج 5، ص83) جذبۂ قُربانی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اپنی ساری دولت حُضُور صلَّی اللہُ تعالٰی علیْہ واٰلِہٖ وسلَّم کے قدموں پر قربان کردی اور اپنی تمام عمر حُضُور اقدس صلَّی اللہُ تعالٰی علیْہ واٰلِہٖ وسلَّم کی خِدمَت کرتے ہوئے گزار دی۔ (سیرت مصطفے، ص95) جود و سخا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا   کی سخاوت کا عالم یہ تھا کہ ایک بار قحط سالی اور مویشیوں کے ہلاک ہونے کی وجہ سے حضرتِ حلیمہ سعدیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا  تشریف لائیں تو آپ نے انہیں 40 بکریاں اور ایک اُونٹ تحفۃً پیش کیا۔ (الطبقات الكبرٰى،ج1، ص92ملخصاً) خصوصیات (1)عورتوں میں سب سے پہلے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہانےاسلام قبول کیا (الاستیعاب،ج4، ص380) (2)آپ کی حَیَات میں رسولُ اللہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیْہ واٰلِہٖ وسلَّم نے کسی اور سے نِکاح نہ فرمایا۔( مسلم، ص1016، حدیث: 6281) (3)آپ  صلَّی اللہُ تعالٰی علیْہ واٰلِہٖ وسلَّم کی تمام اولاد سِوائے حضرتِ ابراہیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ  کے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا ہی سے ہوئی۔ (المواہب اللدنیہ ،ج1، ص391) شانِ ام المؤمنین بزبان سیّد المرسلین مکی مدنی سرکارصلَّی اللہُ تعالٰی علیْہ واٰلِہٖ وسلَّمنے فرمایاکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم!خدیجہ سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی جب لوگوں نے میراانکار کیا اس وقت وہ مجھ پر ایمان لائیں اور جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اس وقت انہوں نے میری تصدیق کی اور جس وقت کوئی شخص مجھے کوئی چیز دینے کے لئے تیار نہ تھا اس وقت خدیجہ نے مجھے اپنا سارا مال دے دیا اور انہیں کے شکم سے اللہتعالٰینے مجھے اولاد عطا فرمائی۔ (الاصابہ،ج8، ص103 ملتقطا) وصال شریف آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا تقریباً 25سال حُضور پُرنور صلَّی اللہُ تعالٰی علیْہ واٰلِہٖ وسلَّمکی شریکِ حیات رہیں۔ آپرضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہَا کا وصال بعثت (یعنی اعلانِ نبوت)کے دسویں سال دس رمضان المبارک میں ہوا آپ مکہ مکرمہ کے قبرستان جَنَّتُ الْمَعْلٰی میں مدفون ہیں۔ نبیِّ کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیْہ واٰلِہٖ وسلَّمآپ کی قبر میں داخل ہوئے اور دعائے خیر فرمائی نماز ِجنازہ اس وقت تک مشروع نہ ہوئی تھی(یعنی شرعاً اس کا آغاز نہ ہوا تھا) ،بوقتِ وفات آپ کی عمر مُبارَک 65 برس تھی، آپ کی وفات پر رحمتِ عالمیان صلَّی اللہُ تعالٰی علیْہ واٰلِہٖ وسلَّم بہت غمگین ہوئے۔(مدارج النبوت،ج 2، ص465) جس سال آپ کی وفات ہوئی اسے ’’عام الحزن(غم کا سال)‘‘قرار دیا۔

امّ المؤمنین حضرت سیّدتنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا  کی سیرتِ مبارَکہ کے بارے میں مزید جاننے کے لئے مکتبۃ المدینہ کا رسالہ”فیضانِ خدیجۃُ الکبریٰ“ پڑھئے۔

 


امّ المؤمنین حضرت  سیّدتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِی اللہُ تَعَالٰی  عنْہَا

تاریخِ اسلام میں جن ہستیوں کا ذکر سنہری حروف  سے کیا جاتا ہے ان میں ایک اُمّ المؤمنین، حبیبۂ سیّد المرسلین، عالمہ، عابِدہ، زاہِدہ، طیّبہ، طاہرہ، مُفسِّرہ، مُحدِّثہ، فقیہہ،مُجتہدہ مُفتیۂ اِسلام سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہُ تعالٰی عنہَا بھی ہیں۔ آپ رضی اللہُ تعالٰی عنہَا کی شانِ طہارت و صداقت اور علمی شان و لیاقت مثالی ہے۔ آپ رضی اللہُ تعالٰی عنہَا کے بے شمار اوصافِ جلیلہ میں سے ایک نمایاں وصف ”فقاہت“ بھی ہے۔ خداداد ذہانت وفطانت پھر رسولِ کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے فیضانِ صحبت سے آپ نے علم و فضل کی انتہائی بلندیوں کو پا لیا تھا۔

دوتہائی دین ان سے حاصل کرو! نبیِّ رحمت، شفیعِ اُمّت صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے اِرشاد فرمایا:”تم اپنا دو تہائی دِین اس حُمَیرا (یعنی سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا) سے حاصِل کرو۔“(کشف الخفاء، ج1، ص332، حدیث:1196)

آپ سے بڑھ کر کوئی عالم نہ دیکھاحضرتِ سیِّدُنا عُروَہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ اِرشاد فرماتے ہیں:”میں نے لوگوں میں اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا سے بڑھ کر کسی کو قراٰن، میراث، حلال وحرام، شعر، اَقوالِ عرب اور نسب کا عالِم نہیں دیکھا۔“(حلیۃ الاولیاء،ج2، ص60،رقم:1482، مستدرک،ج5، ص14،حدیث:6793 بتغیرقلیل)

مستقل فتوے دیا کرتی تھیں حضرتِ سیِّدُنا قاسِم رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:”اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہا سیِّدُنا صِدِّیقِ اَکبررضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے عہدِ خِلافت میں ہی مُستقِل طور پر فتویٰ دینے کا رتبہ حاصِل کر چکی تھیں، یہ اہم دینی خدمت  وصال مبارک تک جاری رہی۔ (طبقات الکبرٰی،ج2، ص286 ملخصا)

صحابۂ کرام مسائل پوچھا کرتے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ جو خود بھی فقیہ ہیں اور  پیارے آقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے انہیں یمن کا حاکم بنا یا تھا، فرماتے ہیں: ہم اَصْحَابِ رسول کو جب بھی کسی بات میں کوئی مشکل پیش آئی اور ہم نے اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صِدِّیقہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا سے اس بارے میں پوچھا تو آپ کے پاس اس کا علم پایا۔ (ترمذی،ج5، ص471، حدیث:3909)

وراثت کے مسائل میں مہارت حضرت مسروق تابعی رحمۃُ اللّٰہِ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: میں نے رسولِ اکرم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے اکابر اصحاب کو وراثت کے مسائل اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صِدِّیقہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا سے دریافت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔(طبقات الکبریٰ،ج2، ص286)

خدمتِ حدیث آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا سے دو ہزار دو سو دس (2210) اَحادیث مروی ہیں جن میں ایک سو چوہتر (174) مُتَّفَقٌ عَلَیْہ ہیں یعنی بُخاری ومُسلم دونوں کی رِوایات اور چون (54) اَحادیث صرف بخاری کی ہیں اڑسٹھ (68) اَحادیث صِرف مُسلم کی(بقیہ دیگر کُتُبِ اَحادیث میں ہیں)۔ (ملخص از مراٰۃ المناجیح،ج8، ص70)

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ان پر رحمت ہواور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلِہٖ وسَلَّم

سیدہ عائشہ صدیقہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہا کی سیرتِ مبارکہ  کے متعلق تفصیل سے جاننےکےلئےمکتبۃ المدینہ کی کتاب”فیضانِ عائشہ صدیقہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہا “ پڑھئے۔ 


امّ المؤمنین حضرت  سیّدتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِی اللہُ تَعَالٰی  عنْہَا

اللہعَزَّوَجَلَّ نےنبیِّ کریمصلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کو چار صاحبزادیوں حضرت زینب، رُقَیَّہ،امِّ کلثوم اور بی بی فاطمہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُنَّ سے نوازا تھا۔ان میں سے حضرت سیّدتنا رقیہ اور حضرت سیّدتنا فاطمہ زَہرا رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُمَا کا وصال رمضان المبارک میں ہوا، ذیل میں ان دونوں شہزادیوں کا مختصر تعارف پیشِ خدمت ہے ۔

حضرت سیّدتنا رقیہرضیَ اللہُ تعالٰی عنہَاآپ کی ولادت اعلانِ نبوّت سے 7سال قبل ہوئی۔(الاستیعاب،ج4، ص398ملخصاً) نبیِّ کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے اللہعَزَّ وَجَلَّ کے حکم سے آپ کا نکاح حضرت سیّدنا عثمان غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ سے کیا۔(المعجم الاوسط،ج2، ص346، حدیث:3501، اسدالغابۃ،ج3، ص126) آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا کو اسلام میں سب سے پہلے ہجرت کرنے والے قافلے میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ (البدایہ والنہایہ،ج2، ص317)آپ نے دوبار حبشہ اور ایک بار مدینہ کی طرف ہجرت کا شرف حاصل کیا۔(تاریخ دمشق،ج3، ص151) آپ کے ہاں ایک ہی صاحبزادے کی ولادت ہوئی جو صِغَرسِنی(بچپن) ہی میں انتقال کر گئے تھے۔(تاریخ دمشق،ج 3، ص151) رمضان المبارک 2 ہجری میں جب نبیِّ کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم غزوۂ بدر کے لئے تشریف لے گئے اس وقت آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا علیل تھیں اور اسی علالت میں آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا کا انتقال ہوگیا۔(اسد الغابۃ،ج3، ص126)

حضرت سیّدتنا فاطمہرضیَ اللہُ تعالٰی عنہَانبیِّ کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی سب سے چھوٹی لاڈلی شہزادی ہیں۔(جنتی زیور، ص502) آپ  فاتحِ خیبر، شیرِ خدا حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وجہَہُ الْکرِیم کی زوجہ، جنّتی جوانوں کے سردارحضراتِ حسنین کریمین کی والدہ ہیں نیز اللہ عَزَّوَجَلَّ نے رسول اللہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کا سلسلۂ  نسب آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا ہی سے جاری فرمایا۔(سفینہ نوح، ص16 ملخصاً) آپ کو جنّتی عورتوں کی سردار ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔(بخاری،ج2، ص507، حدیث:3624) آپ کی ولادت بعثتِ رسول سے کچھ عرصہ قبل ہوئی۔(سیر اعلام النبلاء،ج3، ص425) آپ نہایت عبادت گزار،متقی اور پاکباز  خاتون تھیں اس لئے آپ کو عابدہ، زاہدہ اور طاہرہ بھی کہا جاتا ہے۔(سفینہ نوح، ص13 ملخصاً) آ پ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا اخلاق و عادات، گفتار و کردار میں  نبیِّ  کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم سے بہت مشابہت رکھتی تھیں۔(ترمذی،ج5، ص344، حدیث:3898ملخصاً) نبیِّ کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم آپ سے بے حد محبت فرماتے تھے اور جب آپ تشریف لاتیں تو سیّدِ عالَم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم آپ کا ”مَرْحَباً بِاِبْنَتِیْ“ یعنی خوش آمدید اے میری بیٹی! کہہ کراستقبال فرماتے اور اپنے ساتھ بٹھاتے۔(بخاری،ج 2، ص507، حدیث: 3623) نبیِّ کریم، رَءُوْفُ رَّحیم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو سب سے آخر میں آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا سے ملاقات فرماتے اور جب سفر سے  واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا ہی سے ملاقات  فرماتے۔ (مستدرک، ج4، ص141،حدیث:4792) آپ بھی نبیِّ کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم سے بے حد محبت فرماتی تھیں اسی لئے  نبیِّ کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے وصال کا آپ کو بےحد صدمہ  ہوا  جس کا اظہار  آپ  یوں فرماتیں:(حضورِ اکرم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے وصال سے) جو صدمہ  مجھے پہنچا ہے کہ اگر وہ صدمہ دنوں پر آتا تو وہ راتیں ہوجاتیں۔(مرقاۃ المفاتیح،ج10، ص305، تحت الحدیث:5961) نبیِّ  کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے وصالِ ظاہری کے  تقریباً  پانچ یا چھ ماہ بعد 3 رمضان المبارک 11 ہجری میں آپ کا وصال ہوا۔ (طبقات الکبریٰ،ج8، ص23) اور نمازِجنازہ حضرت سیّدنا صدیقِ اکبر رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے پڑھائی۔(مراٰۃ المناجیح،ج 8، ص456، طبقات الکبریٰ، ج8، ص24، تاریخ دمشق،ج7، ص458، البدایۃ والنہایۃ، ج1، ص157، حلیۃالاولیاء، ج4، ص100، مسند الحارث، ج1، ص371، حدیث: 272)


امّ المؤمنین حضرت  سیّدتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِی اللہُ تَعَالٰی  عنْہَا

دودھ پلانے والی ماؤں کیلئے رمضان کے روزے کا حکم

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ دودھ پلانے والی ماؤں کے لئے رمضان کے روزے کا کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

دودھ پلانے والی ماں کے بارے میں یہ حکم ہے کہ دودھ پلانے سے اگر اسے یا اس کے بچے کی جان کو نقصان پہنچنے کا صحیح اندیشہ ہو تو اسے اجازت ہے کہ اس وقت روزہ نہ رکھے۔ پھر رمضان گزر جانے کے بعد ان چھوڑے گئے روزوں کی قضا کرے۔ بہارِ شریعت میں ہے:”حمل والی اور دودھ پلانے والی کو اگر اپنی جان یا بچہ کا صحیح اندیشہ ہو تو اجازت ہے کہ اس وقت روزہ نہ رکھے۔“(بہارِ شریعت،ج1، ص1003،مکتبۃ المدینہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ و رَسُوْلُہُ اَعْلَم صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلِہٖ وسلَّم

عورت کا غسل کیلئے مسجدِ بیت سے نکلنا کیسا؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا عورت دورانِ اعتکاف شدید گرمی کے سبب جائے اعتکاف کے علاوہ  باتھ روم میں غسل کرسکتی ہے؟سائلہ:بنتِ لیاقت (باب المدینہ کراچی(

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ  حِیْم

اَلْجَوَاب بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب  اَللّٰھُمَّ  ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَا لصَّوَاب

مَرد اصلِ مسجد (یعنی وہ جگہ جو نماز پڑھنے کے لئے خاص کرکے وقف ہوتی ہے) سے متصل وقف جگہ جو ضروریات و مصالحِ مسجد کے لئے وقف ہوتی ہے جسے فنائے مسجد کہا جاتا ہے اس  میں بنے ہوئے غسل خانہ میں دورانِ اعتکاف بغیر ضرورت کے بھی غسل کرسکتا ہے فِنائے مسجد میں جانے سے اس کا اعتکاف نہیں ٹوٹتا جبکہ عورت گھر میں متعیّن کردہ جگہ میں اعتکاف کرتی ہے، جو”مسجدِ بیت“ کہلاتی ہے اور مسجدِ بیت میں فِنا کا کوئی تصور نہیں ہوتا اس لئے عورت مسجدِ بیت سے باہر بِلا ضرورت نہیں نکل سکتی، صورتِ مسئولہ (یعنی پوچھی گئی صورت) میں عورت اگر فرض غسل کے علاوہ کسی غسل مثلاً گرمی کی وجہ سے ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے نکلے گی تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔

وَاللہُ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ ورَسُوْلُہ ٗ اَعْلَم صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلِہٖ وسلَّم

مخصوص ایام میں روزہ رکھنے  کا حکم

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین کَثَّرَھُمُ اللہُ الْمُبِیْن اس مسئلے کے بارے میں کہ رمضان میں اگر عورت کو دورانِ روزہ حیض آجائے تو اس کے لئے روزے کا کیا حکم ہے اسے پورا کرے یا توڑ دے اور ایسی صورت میں وہ کھا پی سکتی ہے یا نہیں؟ سائل:محمد ذیشان عطاری(میرپورخاص)

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ  حِیْم

اَلْجَوَاب بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب  اَللّٰھُمَّ  ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَا لصَّوَاب

عورت کو اگر روزے کی حالت میں حیض آ گیا تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا اور رمضان کے بعد اس روزے کی قضا کرنا ہوگی اور اس کے لئے بقیہ دن روزہ دار کی طرح رہنا واجب نہیں ہے  اور وہ کھا پی سکتی ہے، اسے اختیار ہے کہ چُھپ کر کھائے یا کھلے عام، مگر بہتر یہ ہے کہ چُھپ کر کھائے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ و رَسُوْلُہُ اَعْلَم صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلِہٖ وسلَّم