حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی   رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ

      بدایوں شریف کو جن ہستیوں کے مقام پیدائش ہونے کا شرف حاصل ہے ا ن میں ایک ذات مشہورمُفسِّرقراٰن،حکیم الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہِ رحمۃُ اللہِ الْقَویکی بھی ہے۔ آپ کی ولادت صبح ِصادق کی پُرنور اور بابرکت ساعتوں میں شوّالُ المکرّم 1314ھ کو محلہ کھیڑہ بستی اوجھیانی (بدایوں،یوپی ہند) میں ہوئی۔ (حالاتِ زندگی،حیاتِ سالک،ص64) تعلیم و تربیت آپ نے قراٰنِ پاک سےلے کر فارسی کی نصابی تعلیم اور درسِ نظامی کی ابتدائی کُتُب اپنے والدِگرامی حضرت مولانا محمد یار خان بدایونی سے پڑھیں،مدرسہ شمسُ العلوم میں علامہ قدیر بخش بدایونی علیہِ رحمۃُ اللہِ الْقَویکی نگرانی میں تین سال تک تعلیم حاصل کی پھر مختلف درس گاہوں میں پڑھا اور آخر کار جامعہ نعیمیہ  (مُراد آباد، ہند) میں داخلہ لے کر خلیفۂ اعلیٰ حضرت صدرُ الافاضل مفتی سیّد محمد نعیمُ الدّین مراد آبادی اورخلیفۂ اعلیٰ حضرت علامہ حافظ مشتاق احمد صدیقی کانپوری رحمۃُ اللہِ  تعالٰی علیہِما جیسے شفیق اور مہربان اَساتِذَہ کے زیرِ سایہ رہ  کرعلم و عمل کی دولت سے فیض یاب ہوئے اور 19 برس کی عمر میں سندِ فراغت حاصل کی۔ (حالاتِ زندگی، حیاتِ سالک، ص69 تا 80 ملخصاً) دینی  خدمات سندِ فراغت حاصل کرنے کے بعداستادِ محترم حضرت علامہ صدرُ الافاضل سیّدمحمدنعیمُ الدّین مراد آبادی علیہِ رحمۃُ اللہِ الہادِی کی  ہدایت پر جامعہ نعىمىہ مراد آباد(ہند)، مدرسہ مسکینیہ (دھوراجی، کاٹھیاواڑ، ہند)،کچھوچھہ شریف اور بھکھی شریف (تحصیل پھالیہ ضلع منڈی بہاؤ الدین، پنجابپاکستان)میں تدریس فرمائی پھر آپ ضلع گجرات (پنجاب پاکستان)تشریف لےآئے اورزندگی کے بقِیَّہ ایّام یہیں گزارے۔بارہ تیرہ سال دارالعلوم خدّامُ الصّوفیہ گجرات اور دس برس انجمن خُدّامُ الرَّسول میں فرائضِ تدریس انجام دیتے رہے،وصال سے چھ سال قبل جامعہ غوثیہ نعیمیہ میں تدریس اور افتا کا سلسلہ رہا۔ آپ رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ نے (سوائے ’’علم المیراث ‘‘کے) اپنی تمام تصانیف  گجرات میں قیام  کے زمانے میں ہی تحریر فرمائیں۔ (حالاتِ زندگی، حیاتِ سالک،ص83 تا 87، تذکرہ اکابرِ اَہلِ سنّت، ص 55 ملخصاً) آپ کی تصانیف میں تفسیرِ نورُالعرفان، تفسیر نعیمی(پارہ گیارہ تک)، مراٰۃ المناجیح  اور جاءالحق  عوام و خواص میں بہت  مشہور و معروف ہیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّمکتبۃ المدینہ(دعوتِ اسلامی) سے شائع ہونے  والی  اکثر کُتُب و رَسائل میں  آپ رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ کی  کُتُب بالخصوص مراٰۃ المناجیح سے خوب استفادہ کیا جاتا ہے ۔قابلِ رشک جدول روزانہ بعدنمازِ فجر30 منٹ درسِ قراٰن اور 15 منٹ درسِ حدیث کے لئے مختص تھے۔اشراق کے  نوافل ادا کرنے کے بعدناشتہ فرماتےپھر تدریس کے ذریعے طلبۂ کرام میں علم و حکمت  کا نور منتقل فرماتے،تدریس سےفراغت کےبعددو گھنٹے تک تصنیف و تالیف میں مشغولیت رہتی،اس کے بعد دوپہر کا کھانا تناوُل فرماکر ایک گھنٹہ  آرام فرماتے ۔ بعدِنماز ظہر ایک پارہ تلاوت  کرتے اور پھر تحرىرو تصنىف اور ملک بھر سے آئے ہوئے سوالات اور خُطوط کے جوابات  دینے میں مصروف ہوجاتے۔ باجماعت نمازِ عصر ادا کرنے کے بعد چہل قدمی کرتے ہوئے حضرت سیّدنا کرم الٰہی المعروف کانواں والی سرکار رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ کے مزارِ پُرانوارپر حاضر ہوتے، جاتے ہوئے  زبان پر درودِ تاج کے نذرانے ہوتےتو لوٹتے ہوئے دلائلُ الخیرات شریف وردِ زباں ہوتی اور عین اذان ِمغرب کے وقت مسجد میں سیدھا قدم رکھتے، نمازِمغرب ادا فرمانے کے بعد کھانا تناوُل فرماتے اور نمازِ عشا تک مطالعہ فرماتے، عشا کی نماز باجماعت ادا فرماتےاور سنّتیں و نوافل گھر میں ادا کرتے پھر 11منٹ تک طلبہ سے فقہی مسائل پر گفتگو فرماتے اس کے بعد آرام کے لئےتشریف لے جاتے اور جلد بیدار ہو کر نمازِ تہجد ادا فرماتے۔ نماز سے محبت کا یہ عالم تھا کہ عرصۂ دراز  تک تکبیرِ اُولیٰ بھی فوت ہوتے ہوئے نہ دیکھی گئی، خاموشی سے اذان سننے کا اس قدر اہتما م فرماتے کہ بوقتِ اذان گھر میں سناٹا ہو جاتا، نمازِباجماعت کی ادائیگی کے لئے اپنے دونوں بیٹوں کو ساتھ لے جانا آپ کے معمولات میں شامل تھا۔ (حالاتِ زندگی، سوانح عمری، ص 24 تا 25 ملخصاً)وصال ومدفن 3رمضانُ المبارک1391ھ مطابق 24 اکتوبر 1971ء  کو آپ کا وصال ہوا۔آپ رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ  کا مزارِ فائضُ الانوار گجرات شہر (پنجاب، پاکستان)میں ہے۔(تذکرہ اکابرِ اَہلِ سنّت، ص 58 ملخصاً)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ کی حیات مبارکہ کے بارے میں مزید جاننے کے لئے مکتبۃ المدینہ کا رسالہ”فیضان مفتی احمدیارخان نعیمی رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ “ پڑھئے۔

تراویح کی فضیلت

فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم:روزے اور قرآن بندے کی شفاعت کریں گے، روزے عرض کریں گے: یَارَبّ میں نے اِسے دن میں کھانے اور شہوت سے روکا لہٰذا اِس کے بارے میں میری شفاعت قبول کر! اور قرآن کہے گا: میں نے اِسے رات میں سونے سے روکا لہٰذا اِس کے متعلق میری شفاعت قبول کر! دونوں کی شفاعت قبول ہوگی۔(شعب الایمان،ج 2، ص346، حدیث: 1994)

مُفَسر شَہِیر، حکیمُ الاُمت حضرت مفتی احمد یار خان علیہِ رحمۃُ الرَّحمٰن اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: (قرآنِ پاک تراویح پڑھنے والے مسلمان کی شفاعت کرتے ہوئے اللہ کریم کی بارگاہ میں عرض کرے گا) روزہ افطار کرکے اس کی طبیعت آرام کی طرف مائل ہوتی تھی،ہاتھ پاؤں میں سُستی پھیل جاتی تھی کہ نمازِ عِشا کی اذان کی آواز سنتے ہی تراویح میں مجھے سننے آجاتا تھا لہٰذا یہاں تراویح پڑھنے والے مراد ہیں تہجد والے ہی مراد نہیں کیونکہ تہجد تو سال بھر پڑھی جاتی ہے یہاں خصوصیت سے رمضان کا ذِکر ہے۔(مراٰۃ المناجیح،ج3، ص139)

دودھ نہ پیا

حضور غوثِ پاک، حضرت شیخ سیّد عبد القادر جیلانی رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ کی ولادت یکم رمضان المبارک کو ہوئی اور پہلے دن ہی سے روزہ رکھا۔(منے کی لاش، ص3) آپ رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ کی والدہ ماجدہ فرمایا کرتی تھیں: جب  میرے صاحبزادے عبدالقادر کی ولادت ہوئی تو وہ رمضان المبارک میں دن کے وقت میرا دودھ نہیں پیتا تھا اگلے سال رمضان کا چاند غُبار کی وجہ سے نظر نہ آیا تو لوگ میرے پاس دریافت کرنے کے لئے آئے تو میں نے کہا کہ” میرے بچے نے دودھ نہیں پیا۔“پھر معلوم ہوا کہ آج رمضان کا دن ہے۔(بہجۃ الاسرار،ص172)


a-aa