روزہ پاکیزہ زندگی اپنانے کا نسخہ

  اِرْشادِبارِیتعالٰیہے: (  یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۱۸۳)( ترجمہ: اے ایمان والو!تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تا کہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔(پ2،البقرۃ:183)

تفسیر:اس آیتِ مُبارَکہ میں فرمایا کہ سابِقہ اُمَّتوں کی طرح اُمَّتِ محمدِیّہعَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام پربھی روزے فرض کئے گئے ہیں جس کا بنیادی مقصد تَقویٰ وپرہیزگاری ، قلب کی صفائی اور نفس کی پاکیزگی ہے۔

روزہ کا شرعی معنیٰ:اس کا  شرعی معنیٰ یہ ہے کہ صبحِ صادِق سے لے کر غروبِِآفتاب تک روزے کی نیت سے کھانے پینے اور ہم بستری سے بچا جائے۔ ( خازن،110/1)فرض روزوں کے لئےرمضان کا مہینہ خاص ہے اور دیگر روزے ممنوع ایام یعنی عید الفطر کے دن اور ایام تشریق میں سے ان ایام 10،11،12،13  ذوالحجۃ الحرام کے علاوہ جب چاہیں رکھ سکتے ہیں۔

تقویٰ کا معنیٰ:تقویٰ کا معنی ہے نفس کو خوف کی چیز سے بچانا اور شریعت کی زبان میں تقویٰ کا عمومی معنی یہ ہے کہ نفس کوعذاب کا سبب بننے والی چیز یعنی ہر چھوٹے بڑے گناہ سے بچایاجائے۔اللہعَزَّوَجَلَّفرماتاہے: (وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗؕ-)اورظاہری اور باطنی سب گناہ چھوڑ دو۔8،الانعام:120)

روزہ حصولِ  تقویٰ کا ذریعہ کیسے ہے؟:  تقویٰ کی ایک بنیاد یہ ہے کہ آدمی کے ذہن میں یہ اِحساس  بیدار ہوکہ اسے ہرکام میں اللہتعالٰی کی مرضی کو اپنی خواہشات پر ترجیح دینی ہے اوریہی چیز روزے سے حاصل  ہوتی ہے کہ حالتِ روزہ  میں بندہ نفس کے  بنیادی مُطَالَبات کھانے پینے اورجنسی خواہش کی تکمیل کو اللہ تعالٰی کی رضا پر قربان کردیتا ہے، یہی سوچ اور سِپُرْدَگی تقویٰ کےلئے بنیادی مُحَرِّک ثابت ہوتی ہے۔دوسری بات یہ کہ روزے سے بندے کے دل میں عبادت کی خاص رُوْحْ پیدا ہوتی ہے جسے اِحسان کہتے ہیں ۔ احسان کا معنیٰ حدیث میں یہ بیان ہوا کہ تم اپنے رب کی عبادت یوں کرو جیسے تم خدا کو دیکھ رہے ہو اور اگر یہ نہ ہوسکے تو یہ یقین رکھو کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے۔ ( بخاری، 1/31،حدیث:50) روزہ اس احساس کی عملی مشق ہے کہ تنہائی میں لذیذ کھانے اور مشروبات سے تَلَذُّذْ(یعنی لذت حاصل کرنے) پر قدرت کے باوجود مذکورہ بالا اِحساس ہی روزہ دار  کو کھانے پینے سے باز رکھتا ہے اور رمضان کا پورا مہینا اسی احساس کی بار بار مَشْقْ ہوتی ہے اور یہی چیز اعلیٰ درجے کے تَقْویٰ کے حُصُوْل میں مُعَاوِن ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ گناہوں سے بچنا تقویٰ ہے اور اس بچنے پر بآسانی قُدْرَتْ حاصِل ہوجانا روح ِ تقویٰ ہے۔گناہوں کے ارتکاب میں خارِجی عامِل(یعنی بیرونی سبب)شیطان ہے جبکہ اندرونی مُعَاوِن نفس ہے۔نفس کی لَگام جتنی ڈھیلی ہوگی ، گناہوں کا اِرْتِکاب اُتنا ہی زیادہ ہوگا جبکہ نفس جس قدر قَابُوْ میں ہوگا گناہوں سے بچنا اُتنا ہی آسان ہوگا، اب روزے کو دیکھیں تو روزہ اسی ضَبْطِ نفس کی اَعْلیٰ درجے کی مشق ہے کہ نفس بھی موجود ہے اور اس کے تقاضے بھی زوروں پر ہیں لیکن پھر بھی روزے نے نفس کو لگام ڈالی ہوئی اور اس کے تقاضوں کو دبایا ہوا ہے، اور ماہِ رمضان میں یہ مشق پورا مہینا زور و شور سے جاری رہتی ہے تو نتیجہ ظاہر ہے کہ نفس پر قابو حاصل ہوتا ہے اور یہی چیز تقویٰ کی بنیاد ہے۔ یہاں یہ سوال ہوسکتا ہے کہ اکثر لوگوں میں عملی طور پر روزوں کے بعد بھی تقویٰ نظر نہیں آتا ، اس کی کیا وجہ ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سب بَرَکات اُن روزوں کی ہیں جنہیں ان کے ظاہری وباطنی آداب کے ساتھ مکمل کیا جائے  اورہمارے ہاں جس طرح بوجھ سمجھ کر اور باطنی آداب کا خیال رکھے اور گناہوں سے بچے بغیرروزے رکھے جاتے ہیں ان سے تقویٰ کی وہ دولت کیسے حاصل ہوسکتی ہے جو مقصود ِ روزہ ہے۔