امیر المؤمنین  حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم

وہ معزّز ہستی جسے دنیا ہی میں جنّت کی بشارت عطا ہوئی، (ترمذی ،ج5،ص416، حدیث:3769) وہ محترم ہستی جسے رحمتِ عالم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے دنیا و آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا، (ترمذی،ج 5،ص401،حدیث:3741) وہ مُعَظَّم ہستی جسے المرتضیٰ، کرّار (جنگ میں پلٹ پلٹ کر حملے کرنے والا)، شیرِ خدا، مولا مشکل کُشا کے القابات ملے،امیرالمؤمنین مولائے کائنات حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجہَہُ الْکریم کی مبارک ذات ہے۔

پیدائش و بچپن نبیِّ کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے اعلانِ نبوت سے دس سال پہلے آپ کی پیدائش ہوئی۔(الاصابہ،ج4،ص464) 5سال کی عمر تک والدین کی پرورش میں رہے پھر رسول اللہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ  وسَلَّم کی کَفالت میں رہ کر ظاہر و باطن کو سنوارتے رہے۔(شرح الزرقانی علی المواہب،ج1،ص   449، شرح شجرہ قادریہ، ص42) آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی زندگی کا ہر دور بت پرستی سے پاک رہا ہے۔ (تاریخ الخلفاء، ص132) اسلام کی نورانی کرنیں طلوع ہوتے ہی دس برس کی عمر میں آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کا دل نورِ ایمان سے جگمگا اُٹھا۔(تاریخ الخلفاء،ص132)

 واقعۂ ہجرت اور نکاح ہجرت کی رات آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے نبیِّ کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی سبزچادر اوڑھ کرآپ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کےمبارک بستر پر رات گزارنے کا شرف حاصل کیا۔ اگلی صبح سَرورِ عالم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے پاس رکھی ہوئی اہلِ مکہ کی اَمانتیں اُنہیں لوٹائیں اور’’مدینۂ منوّرہ ‘‘کی جانب ہجرت فرمائی۔ آپرضیَ اللہُ تعالٰی عنہ رات میں سفر کرتے اور دن کسی جگہ چھپ کر گزارتے، مدینے پہنچے تو قدمین شریفین پر وَرَم آچکا تھا اور اِن سے خون رِس رہا تھا، تاجدارِ مدینہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نےآپرضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے دونوں قدموں پر اپنا دستِ شفقت پھیرا اور لُعابِِ دہن لگایا پھر دعا کی تو قدم ایسے ٹھیک ہوئے کہ شہادت تک ان میں کبھی تکلیف نہ ہوئی۔(اسد الغابہ،ج4،ص104، 105)ماہِ صفر 1ہجری یا ماہِ رجب 2ہجری میں سیّدۃُ الکونین فاطمۃ الزہراء رضیَ اللہُ تعالٰی عنہَا سے آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہکے نکاح کی بابرکت  تقریب ہوئی۔(طبقات ابن سعد،ج 8،ص18، الکامل فی التاریخ،ج 2،ص12)

مجاہدانہ کارنامےغزوہ ٔ تبوک کے موقع پر مدینے میں نائبِ رسول کی حیثیت سے ٹھہرے، اس کے علاوہ ہر غزوہ میں آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے سینہ سِپَر ہوکر بہادری اور شجاعت کے وہ کارنامے دکھائے کہ اپنا ہو یا پرایا ہر ایک ہمت کی داد دئیے بغیر نہ رہ سکا۔(طبقات ابن سعد،ج 3،ص16،17) آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی تلوار اِسلام کے دشمنوں  پر بجلی کی طرح گرتی اور انہیں  خاک و خون میں ملا دیتی  تھی۔ جب بھی نبیِّ کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم آپ کو جھنڈا عطا کرکے کسی مہم پر روانہ کرتے تو  کامیابی و کامرانی آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے قدم چوم لیتی تھی۔ (حلیۃ الاولیاء،ج1،ص105) غزوۂ خیبر کے موقع پر آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے اپنی ڈھال پھینک کر قلعہ کے دروازہ کو اکھاڑا اور اسے  بطورِ ڈھال استعمال کیا یہاں تک کہ رحمتِ الٰہی سے فتح یابی نصیب ہوئی۔ وہ دروازہ اس قدر بھاری تھا کہ بعد میں 40 صحابہ علیہِمُ الرِّضْوَان نے مل کر اسے اٹھایا۔(تاریخ ابن عساکر،ج42،ص110،111)

آپ کے فضائل پر مشتمل تین احادیث ِ مبارکہ

(1)میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔ (المستدرک،ج 4،ص96، حدیث:4693) (2)بے شک اللہ تعالٰی نے مجھے چار لوگوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے ان میں سے ایک علی ہیں۔ (ترمذی،ج5،ص400،حدیث:3739) (3)میں جس کا مولا (مددگار یا دوست) ہوں علی اس کے مولا (مدد گار یا دوست)ہیں۔(ترمذی،ج5،ص398،حدیث: 3733)

عہدۂ قضا رحمتِ عالم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کو یمن کا قاضی بناکر بھیجتے ہوئے اپنا دستِ کرم آپ کے سینے پر مارا اور دعاؤں سے نوازا۔ اس کے بعد تادمِ حیات آپرضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کو فریقین کے درمیان فیصلہ کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئی۔(ابن ماجہ،ج3،ص90،حدیث: 2310) آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے حضرت سیّدناابو بکر صدیق، حضرت سیّدناعمر فاروق اور حضرت سیّدناعثمان غنی علیہِمُ الرِّضْوَان کے دورِ خلافت میں ایک مخلص و خیرخواہ مشیر کی حیثیت سے اپنی خدمات سرانجام دیں اور مسلمانوں کی طاقت و قوت کو استحکام بخشا۔حضرت عمر فاروق رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:اللہ مجھے اس مشکل معاملہ سےمحفوظ رکھے  جس میں حضرت علی کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجہَہُ الْکریم کا ساتھ نہ  ہو۔

خلفائے ثلاثہ سے محبت آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ خلفائے ثلاثہ سے بے حد محبت کیا کرتے تھے غالباً اسی وجہ سے کہ آپ نےاپنے بیٹوں میں کسی کانام ابو بکر، کسی کانام  عمر تو کسی کانام عثمان رکھا۔ (المنتظم ج5،ص68،69)

خلافت خلیفۂ سوم حضرت عثمان غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی شہادت کے بعد آپرضیَ اللہُ تعالٰی عنہ منصبِ خلافت پر فائز ہوئے۔

اخلاق و کردار کردار و عمل کی پختگی، وفا شعاری، رحم دلی، بُردباری اور مسلمانوں کی خیر خواہی کے اوصاف آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ میں یکجا دکھائی دیتے ہیں۔سخاوت و شجاعت، عبادت و ریاضت، دانائی و حکمت اور زہد و قناعت آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے امتیازی اوصاف ہیں۔ منصبِ خلافت پر فائز  ہونے کے بعد بھی نہایت سادہ اور عام زندگی گزارتے رہے، حکومت اور دولت آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی نظر میں کوئی حیثیت نہ رکھتی تھی۔

اپنا سامان خود اٹھایا(حکایت) ایک مرتبہ بازارِ کوفہ میں آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے ایک درہم کی کھجوریں خریدیں پھر انہیں اپنی چادر میں باندھا اور چلنے لگے، لوگوں نے عرض کی: لائیے! یہ گٹھڑی ہم اٹھالیتے ہیں، فرمایا: جو اپنے بچوں کا ذمہ دار ہوتا ہے وہی اس بوجھ کو اٹھانے کا زیادہ حق دار ہے۔(الزہد لاحمد،ص:159)

نفس کی مخالفت(حکایت) ایک بار کسی نے آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی خدمت میں فالودہ پیش کیا تو آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے فرمایا: بے شک! اس  کی خوشبو عمدہ، رنگ اچھا اور ذائقہ لذیذ ہے لیکن مجھے یہ پسند نہیں کہ میں اپنے نفس کو ایسی چیز کا عادی بناؤں جس کا وہ عادی نہیں ہے۔(الزہد لاحمد،ص:158)

وصال مبارک منبعِ فیض و برکات خلیفۂ چہارم  حضرت سیّدنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجہَہُ الْکریم 4 برس 8 ماہ 9 دن منصبِ خلافت پر رونق افروز رہے۔ سن 40 ہجری میں 17 یا 19 رمضان کو فجر کی نماز میں قاتلانہ حملہ ہوا تو آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ زخموں کی تاب نہ لَا کر 21 رمضانُ المبارک اتوار کی رات اپنی زندگی کے  63 سال گزار کر جامِ شہادت نوش فرماگئے۔ نمازِ جنازہ بڑے صاحبزادے حضرت امام حسن مجتبیٰرضیَ اللہُ تعالٰی عنہنے پڑھائی، مشہور ومعروف قول  کے مطابق آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی قبرِ مبارک نجفِ اشرف میں ہے۔ (طبقات ابن سعد،ج 3،ص27 ، کراماتِ شیرِ خدا،ص13) بَوقتِ وصال آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے مال میں صرف سات سو درہم باقی تھے۔(حلیۃ الاولیاء،ج 1،ص105)

اللہ تعالٰی کی ان پر رحمت ہو  اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم