مرغ،کبوتر،مور،گدھ

سَمُندر کے کنارے ایک آدمی مرا ہوا تھا، سَمُندر کا پانی چونکہ چڑھتا اُترتا رہتا ہےلہٰذا جب پانی چڑھا تو مچھلیوں نے اُس لاش کو کھایا اور جب پانی اُترا تو جنگل کے درندوں نے کھایا  پھر درندوں کے بعد پرندوں نے کھایا۔(صراط الجنان ،1/393بتغیرٍ) حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم خَلِیْلُاللہ علٰی نَبِیِّنَا وعلیہ الصَّلٰوۃوَالسَّلام نے یہ دیکھ کر بارگاہِ الٰہی میں عرض کی:اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! مجھے یقین ہے کہ تو مُردوں کو زندہ فرمائے گا اور ان کے اجزا دریائی جانوروں اور درندوں کے پیٹوں اور پرندوں کے پوٹوں سے جمع فرمائے گا لیکن میں یہ عجیب منظر دیکھنے کی آرزو رکھتا ہوں۔ اِرشاد ہوا : تم چار پرندے پالو! اُن کو خوب کھلا پلا کر خودسے مانوس کرلو ! پھر  ذَبْح کرکے اُن کے سَر الگ کرلو اور بقیہ گوشت کا قیمہ بناؤ !اور وہ قیمہ تھوڑا تھوڑا مختلف پہاڑوں پر رکھ دو ! اِس کے بعد خود کسی اور پہاڑ پر کھڑے ہو کر اُن پرندوں کے سَر اپنے پاس رکھ لو اور ان پرندوں کوپُکارو ! وہ پرندے زندہ ہو کر تمہارے پاس آجائیں گےاور تم دیکھ لوگے کہ مُردے کس طرح زندہ ہوں گے۔ چنانچہ آپ علٰی نَبِیِّنَاوعلیہ الصَّلٰوۃوَالسَّلامنےایک”مرغ“ (Rooster)ایک کبوتر‘‘(Pigeon)ایک’’گِدھ‘‘ (Vulture) اور ایک مور (Peacock) لے کر اُنہیں پالا  ، خوب کِھلا پلا کر مانوس کیا،  اِس کے بعد ذَبْح کر کے اُن کے سَر علیٰحدہ کر کے باقی گوشت کا قیمہ کیا اور تھوڑا تھوڑامختلف پہاڑوں پر رکھا ، خود بھی ایک پہاڑ پر کھڑے ہو کر پرندوں کے سَر اپنے پاس رکھے اور اُنہیں یوں پکارا:یٰٓاَیُّھَاالدِّیْکُ‘‘(اے مرغ!) ”یٰٓاَیَّتُھَاالْحَمَامَۃُ(اے کبوتر!) یٰٓاَیُّھَا النَّسْرُ(اے گِدھ !) ’’یٰٓاَیُّھَا الطَّاؤُسُ‘‘ (اے مور!) آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے پکارتے ہی چاروں پرندوں کا قیمہ اِکٹّھا ہونا شروع ہوگیا ، ہڈّیاں ایک دوسرے سے ملنے لگیں اور دیکھتے ہی دیکھتے چار پرندے تیار ہوگئے پھر وہ چاروں اُڑتے ہوئے اپنے اپنے سَروں کے ساتھ آکر جُڑگئے اور دانہ چگتے ہوئے اپنی اپنی بولیاں بولنے لگے۔ یوں قدرت کا  عظیم الشّان نَظّارہ دیکھ کر حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم خَلِیْلُاللہ علٰی نَبِیِّنَا وعلیہ الصَّلٰوۃوَالسَّلام کے دل کی آرزو پوری ہوئی اور آپ کو قلبی اطمینان حاصل ہوگیا ۔(ماخوذ از عجائب القرآن مع غرائب القرآن، ص 56-57مطبوعہ مکتبۃالمدینہ)

حِکایت سے حاصل ہونے والے مدنی پھول

پیارے مَدَنی مُنّو اور مَدَنی مُنِّیُو ! اِس حکایت سے ہمیں معلوم ہوا کہ ٭اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے نبیوں کی خواہشات کو پورا فرماتا ہے ٭انبیائے کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے چاہنے سے مردے زندہ ہوجاتے ہیں٭جتنا یقین زیادہ ہوتا ہے اُتنا ایمان کامل ہوتا ہے ٭اِن پرندوں کی طرح قیامت کے دن اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سب لوگوں کو زندہ فرمائے گا، چاہےان کا جسم جل جائے ، گل جائے ، سڑ جائے یا خاک ہوجائے ٭یہ بھی معلوم ہوا کہ مُردےبھی سنتے ہیں ، جبھی تو ان مُردہ پرندوں کو پکارنے کا حکم دیا گیا۔ جب مُردہ پرندوں کو پکارنا شرک نہیں تو وفات پاجانے والے ولیوں اور شہیدوں کوپکارنا کیسے شرک ہوسکتا ہے!