<span></span>

مسلمانوں کی دین سے دوری کے باعث آج کل میّت کو دفنانے کے لئےبعض قبرستانوں میں ایک ڈیڑھ فٹ کھدائی کرنے کے بعداس میں بلاک کی دیوار اٹھاکر قبر بنادی جاتی ہے اور قبر کا اکثر حصہ زمین کے اوپر ہوتا ہے۔ یہ طریقہ غلط اور خلافِ سنّت ہے،سنّت یہ ہے کہ قبر گہری کھودی جائے۔قبر کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ آدھے قد کے برابر ہو،اوسط درجہ سینےتک اور سب سے بہتر یہ ہے کہ پورے  قد کے برابرگہری ہو۔ (فتاویٰ امجدیہ،ج 1،ص365 ملخصاً)

شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کو  مذکورہ خلافِ سنت عمل (یعنی قبرکو سنت کے مطابق نہ کھودنے )کے بارے میں بتایا گیا تو آپ نے مدنی مذاکرے میں  سنّت کے مطابق قبر بنانے کی ترغیب دلائی اور اس سنت پر عمل کروانےکے لئے اس شعبے سے وابستہ افراد کو متوجہ فرمایا۔امیرِ اہلِ سنتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی ترغیب پر دعوتِ اسلامی کی مجلس تجہیزوتکفین اور دیگر ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے پاکستان اور بیرونِ ملک کے گورکنوں، قبرستان کی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ افرادسے ملاقات کرکے اس حوالے سے انفرادی کوشش اور امیرِ اہلِ سنت مدظلہ العالی کی ترغیب پرمشتمل ویڈیو کلپ(Video Clip) دکھانے کی ترکیب بنائی۔ یوں  متعدد گورکنوں وغیرہ نے اس سنت کو زندہ کرنے کی نیت کی۔ اس سلسلے میں اسلامی بھائیوں نے باب المدینہ (کراچی) میں کراچی میونسپل کارپوریشن (KMC) کے ڈائریکٹر قبرستان اقبال پرویز سے ملاقات کرکے مذکورہ ویڈیو کلپ (Video Clip)دکھایا تو انہوں نےدعوتِ اسلامی کی اس کوشش کو سراہنے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ ایک مُراسلہ (Notification) جاری کیاجس میں بابُ المدینہ (کراچی)کے تمام قبرستانوں کی انتظامیہ اور گورکنوں وغیرہ کو سنّت کے مطابق قبر بنانے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں ڈائریکٹر قبرستان اقبال پرویز کی  ڈپٹی ڈائریکٹر قبرستان سرور عالم کےہمراہ عالمی مدنی مرکزفیضانِ مدینہ بابُ المدینہ (کراچی) آمد اور رکنِ شوریٰ سےملاقات بھی ہوئی۔ ملاقات میں بابُ المدینہ (کراچی)کےقبرستانوں کے گورکنوں وغیرہ کی تربیت کے بارے میں بھی بات ہوئی۔اس موقع پر انہیں شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا ان کےنام صَوتی پیغام(Audio Message)بھی سنایا گیا جس میں امیرِ اہلِ سنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دعاؤں سے نوازا نیز  انہیں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع اور بالخصوص رمضان المبارک میں اعتکاف کی ترغیب دلائی۔ جسے سن کر اقبال پرویز نے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں اعتکاف کرنے کی نیّت کی۔

ایک ہزار انوار

فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم ہے:

جو شخص عِیدکے دِن تین سو مرتبہ ”سُبْحٰنَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ“ پڑھے اور فَوت شُدہ مسلمانوں کی اَرْواح کو اِس کا ایصالِ ثواب کرے تو ہر مسلمان کی قَبْر میں ایک ہزار انوار داخِل ہوتے ہیں اور جب وہ پڑھنے والا خود مَرے گا،اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کی قَبْر میں بھی ایک ہزار انوار داخِل فرمائیگا۔ (فیضان سنت بحوالہ مکاشفۃ القلوب،  ص308)