عید منانے کا غلط انداز

رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صلّی اللہُ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب مدینۂ منورہ تشریف لائے تو اہلِ مدینہ نے کھیل کُود کے لئے دو دن مقرر کر رکھے تھے، آپ صلّی اللہُ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دریافت فرمایا:یہ دو دن کیسے ہیں ؟عرض کی گئی :ان دونوں دِنوں میں ہم زمانۂ جاہلیت میں کھیلتے تھے تب رسولِ اکرم صلّی اللہُ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اِنَّ اللّٰہَ قَدْ اَبْدَلَکُمْ بِہِمَا خَیْرًا مِّنْہُمَا یَوْمَ الْاَضْحٰی وَیَوْمَ الْفِطْرِیعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے بدلے ان سے بہتر دو دن دئیے ہیں ، عید الاضحی اور عیدالفطر۔(ابوداؤد،1/418،حدیث:1134)مراٰۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے: یعنی تم ان دنوں میں کھیلنے کُودنے کے عوض ان دودِنوں میںاللہ تعالیٰ کی عبادتیں کرکے خوشی مناؤ، خیال رہے کہ اب بھی کفار اپنے بڑے دنوںمیں جُوئے کھیلتے ہیں، شرابیں پیتے ہیں، ایک دوسرے پر رنگ ڈالتے ہیں، انسانیت سوز اور بے حیائی کے کام کرکے خوشیاں مناتے ہیں، اسلام میں ہر کام انسانیت بلکہ رُوحانیت کا ہے۔(مراٰۃ المناجیح، 2/361)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عید ہویا کوئی اور مذہبی تہوار!اِسے منانے کے لئے مسلمان کوشریعت کی پاسداری لازم ہے لہٰذا ہمیں عید اور دیگر خوشی کے مواقع پر نعمتِ الہٰی کا شکرکرنے، نیا  یا صاف سُتھرالباس پہننے، خوش دِلی کے ساتھ ایک دوسرے سے ملاقات کرنے، تحائف دینے، غریبوں کی خیرخواہی کرنے، رشتہ داروں سے صِلہ رحمی کرنے اور ذکرُاللّٰہ و دُرُودِ پاک کی کثرت کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

عید منانے کے غلط انداز اب اگر کوئی نادان عید کی خوشیاں منانے کے نام پر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ  کو ناراض کرنے والے کاموں میں مصروف رہے مثلاً مردوعورت کے مخلوط(مشترکہ) مَیلوں ٹھیلوں میں شریک ہو، بدنگاہی کرے، بدکاری میں مبتلا ہو، ڈانس کے خصوصی پروگراموں میں شرکت کرے، میڈیا پر عید کے نام پر دکھائے جانے والے گناہوں بھرے شوز دیکھے ،طرح طرح کے ڈرامے دیکھے، تفریح کے نام پر حیا سوز اسٹیج ڈرامےدیکھے ،ناجائز کھیل کود میں مصروف رہے،بُرے دوستوں کے ساتھ مل کر شراب نوشی کرے،جُوا کھیلے یا فِلمیں دیکھے، عورتیں میک اپ (Make-up) کرکے بے پردگی کی حالت میں پارکوں اور ساحلِ سمندر پر گھومیں پھریں،تو ان بے ہودہ،شیطانی اور ناجائز وحرام کاموں کا عیدمنانے سے کوئی تعلق نہیں ۔

بعض نادان تو اس قدر جری ہوتے ہیں کہ اپنی گناہوں بھری مصروفیات کا دوستوں کی محفلوں میں ہنس ہنس کر ذکر  کرتے  نہیں تھکتے ایسوں کو سنبھل جانا چاہئے کہ تابعی بزرگ حضرت سیّدنا بکر بن عبداللہ مُزَنِی علیہ رحمۃ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں:”جو ہنستے ہوئے گناہ کرتاہے وہ روتا ہوا جہنم میں داخل ہوگا۔“(الزواجرعن اقتراف الکبائر،1/33)

ون ویلنگ (One Wheeling) کا جان لیوا شوق عید کا موقع ہو یا کوئی اور دنیاوی تہوار! ’’ون ویلنگ(One Wheeling)“ کے شوقین نوجوان کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔ موت کا یہ کھیل کھیلتے ہوئے کئی نوجوان زخمی ہوجاتے ہیں جن میں سے بعض موت کے گھاٹ اتر جاتے اور کچھ عمر بھر کے لئے معذور ہوجاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں عید کی خوشیاں بھی شریعت کے مطابق منانے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلّی اللہُ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

عید تجھ کو مبارَک اے صائِم!   

روزہ داروں کی عید ہوتی ہے

عید عطّؔار اُس کی ہے جس کو

خواب میں اُن کی دید ہوتی ہے

 

(وسائل بخشش مرمم ص 707)