ایمان میں صبر کی اہمیت/تقویٰ کی اہمیت/اللہ  سے ڈرنے کا اجر/نیکیاں چھپاؤ

ارشاداتِ امیر المؤمنین سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجہَہُ الْکریم: (1)عمل سے بڑھ کر اس کی  قبولیت کا اہتمام کرو اس لئے کہ تقویٰ کے ساتھ کیا گیا تھوڑا عمل بھی بہت ہوتا ہے اور جو عمل  مقبول ہوجائے  وہ کیونکر تھوڑا ہوگا۔(حلیۃ الاولیاء،ج1، ص117،رقم:232)

(2) ایمان میں صبر کی وہ اہمیت  ہے جیسی  جسم میں سَر (Head)کی، اس کا ایمان (کامل) نہیں  جو بے صبری کا مظاہرہ  کرتا ہے۔(حلیۃ الاولیاء،ج1، ص117، رقم:234)

(3) میں دو چیزوں سے بہت خوف زدہ رہتا ہوں (1)خواہش کی پیروی (2)لمبی اُمّیدیں  کیونکہ خواہش کی پیروی  حق قبول کرنے میں رُکاوَٹ بن جاتی ہے اور لمبی امیدیں آخرت بھلا دیتی ہیں۔(حلیۃ الاولیاء،ج1، ص117،رقم:235ملخصاً)

(4)تم آخرت کے بیٹے بنو! دنیا کے نہیں  اس لئے کہ آج(دنیا میں) عمل ہے  حساب نہیں اور کل(آخرت میں) حساب ہے عمل نہیں ۔(حلیۃ الاولیاء،ج1، ص117،رقم:235)

(5)ارشادِ سَیِّدُنا امام جعفر صادق علیہِ رحمۃُ اللہِ الرَّازِق:تقویٰ سے افضل کوئی زادِ راہ نہیں، خاموشی سے بہتر کوئی چیز نہیں، جہالت سے بڑھ کر کوئی نقصان دِہ دشمن نہیں اور جھوٹ سے بڑی کوئی بیماری نہیں۔(سير اعلام النبلاء،ج 6، ص444)

(6)ارشادِ سَیِّدُنا مُطَرِِّف رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ:اگر مومن کی اُمّید اور خوفِ(خدا) کا وزن کیا (یعنی تولا) جائے تو ان میں سے کوئی بھی دوسرے سے زیادہ نہیں ہوگا۔(الزھد لاحمد بن حنبل، ص 251، رقم: 1325)

(7)ارشادِ سَیِّدُنا ابومُسلم خَولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی:پہلے کے لوگ ایسے پتے(کی مثل)تھے کہ ان کے ساتھ  کانٹے نہیں ہوتے تھے جبکہ اب لوگ ایسے کانٹے(کی طرح) ہیں جن کے ساتھ کوئی پتا نہیں ہے۔(حلیۃ الاولیاء،ج3، ص189، رقم: 3658)

(8)ارشادِ سَیِّدُنا ابو حازِمرحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ:جب تم یہ دیکھو کہ تمہارا پروردگار عَزَّوَجَلَّ تمہیں پے دَر پے نعمتیں عطا فرما رہا ہے اور تم اس کی نافرمانی کئے جارہے ہو تو تمہیں اس سے ڈرنا چاہئے۔(تاريخ دمشق،ج 22، ص64)

(9)ارشادِ سَیِّدُنا ایوب سَخْتِیانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی: بندہ اس وقت تک سردار نہیں بن سکتاجب تک کہ اس میں دو خصلتیں نہ پائی جائیں:(1)لوگوں کے پاس موجودچیزوں سے نااُمّیدی اور (2)لوگوں کے معاملات سے بے پرواہوجانا۔(حلیۃ الاولیاء،ج3، ص5، رقم: 2921)

(10)ارشادِ سَیِّدُنا زید بن اَسلمعلیہِ رحمۃُ اللہِ الاکرم:جو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتا ہے تو لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔(حلیۃ الاولیاء،ج3، ص258، رقم: 3881)

(11)ارشادِ سَیِّدُنا یحییٰ بن ابوکثیر علیہِ رحمۃُ اللہِ الْقَدِیْر: علم جسمانی راحت و آرام کے ساتھ حاصل نہیں ہوتا۔(تاريخ بغداد،  ج10، ص142)

(12)ارشادِ سَیِّدُنا ابو حازمرحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ:جس طرح پوری کوشش سےتم اپنے گناہ کوچھپاتےہواسی طرح اپنی نیکیاں بھی چھپانے کی کوشش کرو۔)تاریخ دمشق،ج22، ص68)

(13)ارشادِ سَیِّدُنا وہب بن مُنَبِّہرحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ:شیطان کو اولاد آدم میں زیادہ سونے اور زیادہ کھانے والا سب سے زیادہ پسند ہے۔(المتفق والمفترق،ج1، ص260،رقم: 107)