روزے میں فلمیں، ڈرامے دیکھنا/شراب بنانا یا خریدنا ؟/ کسی مسلمان کی دل آزاری/ کسی کو جنتی کہنا ؟

روزے میں فلمیں، ڈرامے دیکھنا اور گانے باجے سننا کیسا؟

سوال:کیا روزے کی حالت میں فلمیں، ڈرامے دیکھنے یا گانے وغیرہ سننے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب:روزے کی حالت میں فلمیں، ڈرامے دیکھنے یا گانے وغیرہ سننے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، البتہ روزے میں اس طرح کے افعال کرنا مکروہ و سخت گناہ ہیں اور ان کی وجہ سے روزے کی نورانیت بھی جاتی رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر رمضان المبارک کے روزے صرف بھوکا، پیاسا رہنے کیلئے فرض نہیں فرمائے بلکہ اس لئے فرض فرمائے ہیں تاکہ ہمیں تقویٰ و پرہیزگاری ملے۔ جیسا کہ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے:) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۱۸۳) ( ترجمۂ کنز الایمان:”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔“ (پ 2، البقرۃ:183) یہ کیسا روزہ دار ہے جو فلمیں، ڈرامے دیکھے، گانے باجے سنے اور گناہوں کی حالت میں اپنا وقت پاس کرتے ہوئے خود ہی اپنی آخرت برباد کرے؟ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ماہِ مبارک اپنی برکتیں لٹا رہا ہے فوراً سے پیشتر اپنے تمام گناہوں سے ہمیشہ کے لئے سچی توبہ کر کے ایسا تقویٰ حاصل کیجئے کہ پھر کبھی گناہ سرزد ہی نہ ہوں۔ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ رمضان میں گناہوں سے بچیں اور اس کے بعد مَعَاذَ اللہعَزَّوَجَلَّ دوبارہ گناہوں میں پڑ جائیں۔ گناہ تو کسی صورت کرنے ہی نہیں، گناہ اللہ  عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی کا باعث اور جہنم میں جانے کا سبب ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہردم گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                 صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

شراب بنانا یا کسی کے لئے خریدنا کیسا؟

سوال:کسی کو شراب بنا کر یا خرید کر دینے والے بھی شراب پینے والے کی طرح گنہگار ہوں گے یا نہیں؟

جواب:کسی کو شراب بنا کر یا خرید کر لا کر دینا ناجائز و گناہ ہے کہ یہ بُرائی پر مدد کرنا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے قراٰنِ پاک میں بُرائی پر مدد کرنے سے منع فرمایا ہے۔ جیسا کہ پارہ 6 سُوْرَۃُ الْمَآئِدَہ کی آیت نمبر 2 میں اِرشادِ ربُّ العباد ہے: (وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪-) ترجمۂ کنز الایمان:”اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔“ سرکارِ مدینہصلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے شراب کے بارے میں دس (10) شخصوں پر لعنت فرمائی ہے:(1)بنانے والے پر (2)بنوانے والے پر (3)پینے والے پر (4)اُٹھانے والے پر (5)جس کے پاس اُٹھا کر لائی گئی اُس پر (6)پلانے والے پر (7)بیچنے والے پر  (8)اُس کا ثمن (یعنی قیمت) کھانے والے پر (9)خریدنے والے پر (10)اُس پر جس کے لئے خریدی گئی۔ (ترمذی،ج3،ص47، حدیث: 1299)(شراب کی مزید بُرائیاں جاننے کے لئے مکتبۃ المدینہ کا رسالہ ”بُرائیوں کی ماں“ پڑھئے۔)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَم وَ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                 صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

غسل فرض ہونے کی صورت میں آیَۃُ الْکُرْسِی وغیرہ پڑھنا کیسا؟

سوال:جس پرغسل فرض ہو تو کیا وہ آیَۃُ الْکُرْسِی یا کوئی اور قراٰنی دعا یا  بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟

جواب:جس پر غسل فرض ہو تو اُسے قراٰنِ پاک کی تلاوت کرنا یا اُسے چُھونا حرام ہے۔ البتہ اگر قراٰن کی آیت دُعا کی نیت سے یا تبُّرک کے لئے جیسے بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ یا ادائے شکر کو یا چھینک کے بعد اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ یا خبرِ پریشان پر اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ کہا یا بہ نیتِ ثنا پوری سورہ فاتحہ یا آیَۃُ الْکُرْسِی یا سورۂ حشر کی پچھلی تین آیتیں هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-  سے آخر سورت تک پڑھیں اور ان سب صورتوں میں قراٰن کی نیت نہ ہو توکچھ حَرَج نہیں۔(بہارِ شریعت،ج 1ص326)

(غُسل کے متعلق مزید اَحکام جاننے کے لئے مکتبۃ المدینہ کا رسالہ ”غسل کا طریقہ(حنفی) پڑھئے۔)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَم وَ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                 صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

کسی مسلمان کی دل آزاری ہوجائے تو کیا کریں؟

سوال:اگر ہم سے کسی مسلمان کی دل آزاری ہوجائے اور وہ ہمارے رابطے میں بھی نہ ہو تو کیا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں مُعافی مانگنے سے ہمارا معاملہ حل ہوجائے گا؟

جواب:اگر کسی مسلمان کی ناحق دل آزاری کی ہے تو توبہ کے ساتھ ساتھ اُس سے مُعافی حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔ جس کی دل آزاری کی تھی وہ تلاش کرنے کے باوجود نہیں ملتا تو ایسی صورت میں وہ اپنے لئے اور اس کے لئے ندامت کے ساتھ مغفرت کی دعا کرتا رہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے یہ اُمّید رکھے کہ اللہ تعالیٰ صلح کی کوئی صورت پیدا فرما کر  اسے آپ سے راضی کردے گا۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندوں میں سے جس کی چاہے صلح فرمائے گا۔ کسی کے مال میں حق تلفی کی ہے مثلاً کسی کا قرض آتا ہے وہ چُکا دے اور اگر ادائیگی میں تاخیر کی ہے تو معافی بھی مانگے، جس سے رشوت لی، جس کی جیب کاٹی ، جس کے یہاں  چوری کی،جس کامال لوٹا ان سب کو ان کے اَموال لوٹانے ضَروری ہیں،یا ان سے مُہلَت لے یا معاف کروالے اور جو تکلیف پہنچی اس کی بھی مُعافی مانگے۔اگروہ شخص فوت ہوگیا ہے تو وارِثوں کو دے اگر کوئی وارِث نہ ہو تو اُتنی رقم صَدَقہ کرے۔ اگر لوگوں کا مال دبایا ہے مگر یہ یاد نہیں کہ کس کس کا مال ناحق لیاہے تب بھی اُتنی رقم صَدَقہ کرے یعنی مساکین کو دیدے۔ صَدَقہ کردینے کے بعد بھی اگر اہلِ حق نے مطالَبہ کردیا  تو اُس کو دینا پڑیگا۔(ظلم کا انجام، ص 54)

(حقوق العباد کی مُعافی کے بارے میں مزید اَحکام جاننے کے لئےاعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ کے رسالے  ”حقوق العباد کیسے مُعاف ہوں“ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ کیجئے)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَم وَ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                 صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

کسی کو جنتی کہنا کیسا؟

سوال:کسی کے فوت ہوجانے پر بعض لوگوں کا اس کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ تو جنتی ہے، دُرُست ہے یا نہیں؟

جواب:ایسا نہ کہا جائے کیونکہ ہم نہیں جانتے  کہ یہ جنّت میں گیا ہے یا نہیں اور نہ ہی ہم حتمی طور پر(As final )کسی کے بارے میں یہ طے کر سکتے ہیں کہ وہ اللہ کی رحمت کو پہنچا“ کیونکہ پتا نہیں ہے کہ اللہ کی رحمت کو پہنچا ہے یا قبر میں سانپ بچھوؤں نے گھیرا ہے۔ لہٰذا ایسے موقع پر دعائیہ الفاظ کہے جائیں، جیسے اللہ اس پر اپنی رحمت فرمائے۔ کون جنّتی ہے اور کون نہیں؟ یہ صِرف اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی عطاسے انبیائے کِرام علیہمُالصَّلٰوۃُ والسَّلام بتا سکتے ہیں اور ان کے بتائے سے ان کے اُمّتی، ہر اُمّتی یہ نہیں بتا سکتا لہٰذا کوئی مَر جائے تو اس کے لئے یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ جنّت میں چلا گیا، البتّہ یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ یہ اللہ کی رحمت سے جنّت میں ہو گا۔(مدنی پھول:تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان جنتی ہیں۔ (بہارشریعت،ج1،ص254))

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَم وَ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                 صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد