بہو کو کیسا ہونا چاہئے؟(قسط:3)

گزشتہ سے پیوستہ

(13)”چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانا ہی عقلمندی ہے“ لہٰذا بہو کو چاہئے کہ اخراجات کا سلسلہ آمدن کے مطابق رکھے، بے دریغ خرچ کر کے اخراجات میں اضافے کا سبب نہ بنے بلکہ اخراجات کنٹرول کرنے میں گھر والوں کا ساتھ دے۔(14)چھوٹے موٹے گھریلو جھگڑوں کی وجہ سے ساس یا نندوں وغیرہ سے بات چیت چھوڑ دینا، تعلق توڑ لینا درست انداز نہیں ہے۔ سوچئے! وہ جیسی بھی سہی، ہیں تو مسلمان! اور رسولِ كریم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہِ واٰلِہٖ وسَلَّم كا فرمانِ عبرت نشان ہے: كسى بھى مسلمان كے لئے كسى دوسرے مسلمان سے تين راتوں سے زيادہ قطع تعلقى كرنا حلال نہيں، جب تك وہ دونوں ايك دوسرے سے ناراض ہيں تو وہ حق سے دور ہيں اور ان دونوں ميں سے جو پہلے اپنى ناراضى چھوڑ دے تو يہ اس كى ناراضى كا كفارہ بن جائے گا اور اگر وہ سلام كرے اور دوسرا قبول نہ كرے اور سلام كا جواب نہ دے تو فرشتے سلام كا جواب ديتے ہيں اور دوسرے كو شيطان جواب ديتا ہے اور اگر وہ دونوں اپنى ناراضى پر ہى فوت ہو جائيں تو كبھى بھى جنت ميں داخل نہيں ہونگے۔(مسند احمد،ج 5، ص487، حدیث :16258)(15)بہو کو چاہئے کہ سسرال میں بزرگوں( ساس، سسر، بڑی نندوں  اور گھر کے بڑے محارم) کی خدمت کرتی رہے۔ جیسے اپنی ماں کو کھانا پیش کیا کرتی تھی اور دیگر معاملات میں تعاون کرتی تھی، ساس کے ساتھ بھی یہی رویّہ رکھے۔ اگر ساس جھگڑالو بھی ہوئی تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ محبت کرنے والی بن جائے گی۔(16)بالفرض ساس بدسلوکی بھی کرے تو برائی کا جواب اچھائی سے دینا ہی بہترین حکمتِ عملی ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمان ہے: ( اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ(۳۴)) ترجمۂ کنزالایمان: اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا  ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست۔(پ24،حم السجدۃ: 34)

یہ ذہن بنالینا کہ اب میرا اپنی ساس سے نبھا نہیں ہوسکتا، معاملے کو مزید بگاڑ دے گا، اگر بہو ہی اپنا ذہن تبدیل کرلے اور رویّے میں مزید بہتری لے آئے تو حیران کن نتائج نکل سکتے ہیں، اس بات کو ایک فرضی حکایت سے سمجھئے:

ساس کو راستے سے ہی ہٹادوں:فہمیدہ اپنی ساس اور شوہر کے ساتھ رہتی تھی۔ شروع شروع میں تو  صلح صفائی سے دن گزرتے رہے لیکن  کچھ ہی عرصے بعد ان کے درمیان نوک جھونک کا سلسلہ دراز ہونے لگا، نااتفاقیوں نے گھر کا ماحول خراب کردیا جسکی وجہ سے اُس کا شوہر بھی پریشان رہنے لگا تھا۔ فہمیدہ کو محسوس ہوا کہ اب وہ اپنی ساس کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ الگ رہنا ممکن نہ تھا چنانچہ اس  نے اپنی ساس کو ہی راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا۔ فہمیدہ کے ماموں سمجھدار حکیم تھے۔ وہ اُن کے پاس گئی اور اپنی داستانِ غم سنانے کے بعد کہا: مجھے تھوڑا زہر دے دیں تاکہ اپنی ساس سے پیچھا چھُڑاسکوں۔فہمیدہ کے  ماموں اس  کا مسئلہ سمجھ گئے لہٰذا انہوں نے اس کے حل کے لئے حکمتِ عملی اپنائی اور کہا: بیٹی! اگر تم اپنی ساس کو مارنے کیلئے فوری زہر استعمال کرو گی تو سب تم پر شک کریں گے، اس لئے میں تمہیں یہ جڑی بوٹیاں دے رہا ہوں یہ آہستہ آہستہ جسم میں اثر  پھیلائیں گی۔ بس تم ہر روز کچھ اچھا پکانا اور اس میں یہ جڑی بوٹیاں ڈال دینا اور ہاں! اگر تم چاہتی ہو کہ کوئی تم پر شک نہ کرے تو یہ خیال رکھنا ہوگا کہ تمہارا رویّہ انکے ساتھ بہت دوستانہ ہو۔ ان سے لڑائی مت کرنا، ان کی ہر بات ماننا اور انکے ساتھ بالکل سگی ماں جیسا برتاؤ کرنا۔ فہمیدہ نے ماموں کو ان باتوں پر عمل کا یقین دلایا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے جڑی بوٹیاں لے کر گھر چلی آئی۔ اب وہ موقع بموقع کوئی اچھی چیز پکا کر اپنی ساس کو خاص طور پر پیش کرتی۔ کسی بھی معاملے میں ساس بات کرتی یا ڈانٹتی تو وہ ماموں جان کی نصیحت کے مطابق غصے پر قابو رکھتے ہوئے اپنی ساس کی خدمت کرتی اور ہر بات کا جواب حسنِ اخلاق سے دیتی۔ چھ مہینے گزر گئے، اب گھر کا نقشہ تقریباً بدل چکا تھا۔ فہمیدہ کی خدمت، باادب گفتگو اور سلیقہ شعاری ساس کو اس قدر بھائی کہ وہ اُسے اپنی بیٹیوں کی طرح سمجھنے لگی۔ ساس کی طبیعت میں نرمی، بہو کی جانب جھکاؤ اور بیٹی جیسا سلوک دیکھ کر فہمیدہ بھی ساس کو اپنی ماں کی طرح سمجھنے لگی تھی۔ فہمیدہ ایک دن پھر اپنے ماموں جان سے ملنے گئی اورکہنے لگی: آپ مجھے کوئی طریقہ بتائیے کہ میں اپنی ساس کو اس زہر کے اثر سے کیسے بچاؤں جو میں نے اُنہیں دیا ہے؟ وہ بہت بدل گئی ہیں، میں بھی ان سے بہت پیار کرتی ہوں اور میں نہیں چاہتی کہ وہ اس زہر کی وجہ سے مر جائیں۔ ماموں جان مسکرائے اور کہنے لگے: تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں، میں نے تمہیں ”زہر“ دیا ہی نہیں تھا بلکہ جو جڑی بوٹیاں میں نے تمہیں دی تھیں وہ طاقت کی تھیں تاکہ تمہاری ساس  کی صحت بہتر ہوجائے،  زہر صرف تمہارے ذہن اور رویّے میں تھا لیکن وہ سب تم نے اپنے پیار سے ختم کردیا، جاؤ اور خوش و خُرم زندگی گزارو۔

ياد رکھئے! ہمارا رويّہ ، ہمارے الفاظ اور ہمارا لہجہ يہ فیصلہ کرتا ہے کہ دوسرے ہمارے ساتھ کيا رويّہ اپناتے ہيں!!!