صدقہ و خیرات

جس طرح آخرت میں فائدہ دینے والے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنا شریعت کومطلوب ہے اسی طرح ایک دوسرے کی دُنْیَوِی پریشانیوں اور اُلجھنوں  کو دور کرنے پر بھی اَجرو ثواب کی خوشخبری ہے۔ اسلام نے ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کرنے کے لئے  صَدَقَہ و خیرات کابھی  ذِہن دیا ہے۔ اس کی برکت سے معاشرے کےمُفْلِس اور نادار افراد اپنی ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنےکے قابل ہو جاتے ہیں۔دوسروں کی مالی مُعَاوَنَت کرنے والوں کورضائے الٰہی جیسی عظیم دولت  ملنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں بھی پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جبکہ بخیل سے لوگوں کی طبیعتیں بیزار رہتی ہیں۔ صَدَقَہ و خیرات اُخْرَوی و معاشرتی  فوائد کے ساتھ ساتھ بیماریوں اور حادثات سے بچت کا ذریعہ بھی ہے جیسا کہ نبیِّ اکرم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے فرمایا: صَدَقہ دو اورصَدقے کے ذَرِیعے اپنے مریضوں  کامُداوا کیا کرو بے شک صَدَقہ حادِثات اوربیماریوں  کی روک تھام کرتا ہے اور یہ تمہارے اَعمال اور نیکیوں  میں  اِضافے کا باعِث ہے۔(شعب الایمان،ج3، ص282، حدیث: 3556)

رَمَضان میں صدقات کی کثرت:دوسروں کی مالی مدد کا سلسلہ یوں تو سارا سال ہی رہتا ہے لیکن بالخصوص رَمَضانُ المبارک میں کئی عاشقانِ رسول صدقہ و خیرات سے نادار مسلمانوں کی مدد کرتے ہیں۔ نفلی صدقات کے ساتھ ساتھ ماہِ رمضان میں صدقاتِ واجِبہ مثلاً صدقۂ فطر اور زکوٰۃ کی ادائیگی کی طرف بھی اکثریت مائل ہوتی ہے۔ لیکن یاد رہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی فرض ہوجانے کے بعد رمضان کا انتظار نہ کیا جائے  بلکہ اسی وقت ادا کردی جائے۔ ثوابِ آخرت کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ کے دنیوی  فوائد بھی ہیں مثلاً:

 اِسلامی بھائی چارے کا فروغ: جب مالدار شخص زکوٰۃ ادا کرکے کسی غریب اور تنگ دَسْت آدمی کی مدد کرتا ہے تو ایک جانب اس کی مالی معاونت ہوتی ہے تو دوسری جانب دلوں میں اپنے مسلمان بھائیوں کے لئے ہمدردی اور حسنِ سلوک کا احساس پیدا ہوتا ہے جو اسلامی بھائی چارے کے  فروغ کا سبب بنتا ہے۔

اَخلاق میں بہتری کا سبب:زکوٰۃ ادا کرنے والے کے اَخلاق میں بہتری آجاتی ہے۔ مال سے محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں خود پر جبر کرتے ہوئے، ہزار محنتوں  اور مشقتوں سے کمائے ہوئے  مال کو محض حکمِ الٰہی پر عمل کرنے کےلئےزکوٰۃ کی صورت میں خرچ کرنے سے دل مال کی محبت سے آزاد ہوتا ہے اور اس میں مال کی اُلْفَت، دولت  کی حرص اور دنیا کی ہَوَس کی جگہ اِنْفَاق فی سَبِیْلِ اللہ، صبراور شکرجیسی عمدہ صفات پیدا ہوتی ہیں جو اچھے اَخلاق والوں کا حصّہ ہیں۔

صحت مند معاشرے کی تشکیل:زکوٰۃ کی ادائیگی سے ایک صحت مند اور خوشحال معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ کیونکہ معاشرے کی بدحالی کا بنیادی سبب محتاجی ہےجس کی وجہ سے اَخلاقی بدحالی، سماجی تباہی، تہذیبی پَسْماندگی اور تعلیم سے دوری نظر آتی ہے۔ اگر زکوٰۃ کماحقہ مستحق حضرات  تک پہنچائی جائے تو معاشرے کے کئی سلگتے ہوئے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

اَلْغَرَض!مولیٰ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بہت سی پریشانیوں سے بچانے کے لیے زکوٰۃ جیسا شاندار نظام عطا فرمایا ہے،آج بھی اگر تمام صاحبانِ نصاب صدقِ دل اور حسنِ نیت سے زکوٰۃ نکالنا شروع کر دیں توشاید کوئی مسلمان بھوکا نظر نہ آئے۔