ہر کام میں اِعتِدال  ہونا چاہئے/ اِسلام دہشت گردی کی مُمانعت کرتا ہے

شیخِ طریقت امیرِ اَہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں:

(1)روزہ (افطارکرنے) میں فوراً برف کا ٹھنڈا پانی پی لینے سے گیس، تَبْخِیْرِ مِعدہ اور جگر کے وَرم کا سخْت خطرہ ہے۔(فیضان سنت، ص1020)

(2)مِل کر کھانا کھاتے ہوئے ایسا انداز اختیار نہ کریں کہ دوسروں کو گِھن آئے، مہذب سے مہذب ترین انداز ہونا چاہئے۔(مَدَنی مذاکرہ، 24 ذوالحجۃ الحرام 1435ھ)

(3)افسوس! دُنیا کی محبّت نے ہمارے دل میں ایسا بَسیرا کر لیا ہے کہ اِس کی وجہ سے نماز و تلاوت سوز و رِقّت اور خُشوع ختم ہوگیا ہے۔(مَدَنی مذاکرہ، 4 ذوالقعدۃ الحرام 1435ھ)

(4)بڑے جانوروں میں سب سے زیادہ غذائیت سے بھرپور اُونٹنی کا دُودھ ہوتا ہے۔(مَدَنی مذاکرہ، 11 ذوالحجۃ الحرام 1435ھ)

(5)ہر کام میں اِعتِدال (یعنی درمیانی درجہ) ہونا چاہئے، ہمارے ہاں اس کا بہت فُقدان (یعنی کمی) ہے۔(مَدَنی مذاکرہ، 12 شوال المکرم 1435ھ)

(6)والِدین سے خدمت لینے کی بجا ئے اِن کی خدمت کیجئے۔(مَدَنی مذاکرہ، 16 ذوالحجۃ الحرام 1435ھ)

(7)لوگوں کا مال ناحق دَبا لینے والوں، ڈکیتیاں کرنے والوں، چٹّھیاں بھیج کر رقموں کا مطالبہ کرنے والوں کو خوب غور کر لینا چاہئے کہ آج جو مالِ حرام بآسانی گلے سے نیچے اترتا ہوا محسوس ہو رہا ہے وہ بروزِ قیامت کہیں سخت مصیبت میں نہ ڈال دے۔(ظلم کا انجام، ص 6تا7)

(8)اِسلام دہشت گردی کی مُمانعت کرتا اور اَمْن و راحت  کا پیغام دیتا ہے۔(مَدَنی مذاکرہ، 17 شوال المکرم 1435ھ)

(9)سب مل کر مُلک کی تعمیر اور ”مسجد بھرو تحریک“ میں ہمارا ساتھ دیں۔ ہمارا بچّہ بچّہ نَمازی بن گیا تو مُلک بھی خوشحال ہوجائے گا۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ(مَدَنی مذاکرہ، 5 ذوالحجۃ الحرام 1435ھ)

(10)راہِ خدا میں حرام مال دینا مقبول نہیں، اللہ عَزَّوَجَلَّ پاک ہے اور پاک مال ہی قَبول فرماتا ہے۔(ماخوذ اَز پُر اسرار بھکاری، ص 18)

(11)جو پورے ماہِ رمضان کا اعتکاف عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ باب المدینہ (کراچی) میں کرتے ہیں وہ میرے ”مدنی بیٹے“ ہیں۔(مَدَنی مذاکرہ، 17ربیع الآخر 1436ھ)

(12)یادگار چیزوں کے ساتھ موقع کی مُناسبت سے تاریخ (Date) اور اُس کے بارے میں کچھ معلومات لکھ کر رکھنا آئندہ کیلئے دِلچسپی کا باعث اور مُفید ہے۔(مَدَنی مذاکرہ، 10 ذوالحجۃ الحرام 1435ھ)

(13)بے باکی کے ساتھ گناہ کئے جانے والے کا یہ ذِہن بنا لینا کہ ”اللہ تعالٰی کی رَحْمت سے میں ضَرور بخشا جاؤں گا“ خود کو  دھوکا دینے والی بات ہے۔

(14)مُعاشَرے کی غَلَط رسومات میں شامل ہوجانا مَردانگی نہیں، مَرد تو وہ ہے جو مُعاشَرے کو اپنے پیچھے چلائے۔(مَدَنی مذاکرہ، 11 ذوالحجۃ الحرام 1435ھ)

(15)جب بھی مصیبت آئے ہمیں گھبرا کر رَبُّ الْعٰلَمِیْن جَلَّ جَلَا لُہٗ کی بارگاہِ بے کَس پناہ میں رُجوع کر کے خوب توبہ و اِستِغْفَار کرنا چاہئے۔(خود کُشی کا علاج، ص 30)

10دن میں دو حج اور دو عمرے کا ثواب

فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم:مَن اعْتَکَفَ عَشَراً فِیْ رَمَضَانَ کَانَ کَحَجَّتَیْنِ وَعُمْرَتَیْن یعنی جس نے رَمَضانُ الْمُبارَک میں دس دن کا اعتِکاف کرلیا وہ ایسا ہے جیسے دو حج اور دو عمرے کئے۔(شعب الایمان، 3/425، حدیث: 3966)