درد اپنا دے اس قدر یارب/ شورِ مہِ نَو سُن کر تجھ تک میں دَواں آیا/ مرحبا صدمرحبا! پھر آمدِ رَمضان ہے

حمد/مناجات

درد اپنا دے اس قدر یا رب

درد اپنا دے اس قدر یارب

نہ پڑے چین عُمْر بھر یارب

میری آنکھوں کو دے وہ بِینائی

تُو ہی آئے مجھے نظر یارب

وِرد میرا ہو تیرا کلِمۂ پاک

جبکہ دنیا سے ہو سفر یارب

میرے جُرم و قصُور پر  تُو نہ جا

اپنی رَحمت پہ کر نظر یارب

اُڑ کے پہنچوں میں شہرِ طیبہ میں

میرے لگ جائیں ایسے پَر یارب

زیر ہر دم رہیں تیرے دُشمن

دِین تیرا رہے زَبَر یارب

قادِری ہے جمیل اے غفّار

سب گُنہ اِس کے عَفْو کر یارب

قبالۂ بخشش،ص56

از مَدَّاحُ الحبیب محمد جمیل الرحمن قادری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی

 


درد اپنا دے اس قدر یارب/ شورِ مہِ نَو سُن کر تجھ تک میں دَواں آیا/ مرحبا صدمرحبا! پھر آمدِ رَمضان ہے

نعت/استغاثہ

شورِ مہِ نو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا

شورِ مہِ نَو سُن کر تجھ تک میں دَواں آیا

ساقی میں ترے صَدقے مَے دے رَمَضَاں آیا

جنّت کو حَرَم سمجھا آتے تو یہاں آیا

اب تک کے ہر اک کا مُنھ کہتا ہوں کہاں آیا

طیبہ کے سِوا سب باغ پامالِ فنا ہوں گے

دیکھو گے چمن والو! جب عَہْدِ خَزاں آیا

سر اور وہ سنگِ در آنکھ اور وہ بزمِ نور

ظالم کو وطن کا دھیان آیا تو کہاں آیا

کچھ نعت کے طبقے کا عَالَم ہی نِرالا ہے

سکتہ میں پڑی ہے عقل چکر میں گُماں آیا

نامہ سے رضاؔ کے اَب مِٹ جاؤ بُرے کامو

دیکھو مِرے پلّہ  پَر وہ اَچّھے مِیاں آیا

بدکار رضاؔ خوش ہو بَدکام بھلے ہوں گے

وہ اَچّھے مِیاں پیارا اَچّھوں کا مِیاں آیا

حدائق بخشش،ص48

از امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان  عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن

 


درد اپنا دے اس قدر یارب/ شورِ مہِ نَو سُن کر تجھ تک میں دَواں آیا/ مرحبا صدمرحبا! پھر آمدِ رَمضان ہے

کلام

مرحبا صد مرحبا!پھر آمدِ رَمضان ہے

مرحبا صدمرحبا! پھر آمدِ رَمضان ہے

کِھل اٹھے مُرجھائے دل تازہ ہوا ایمان ہے

یا خدا ہم عاصِیوں پر یہ بڑا اِحسان ہے

زندگی میں پھر عطا ہم کو کیا رمضان ہے

تجھ پہ صَدْقے جاؤں رمضاں !تُو عظیم الشان ہے

تجھ میں نازِل حق تعالیٰ  نے کیا قرآن ہے

ہر گھڑی رحمت بھری ہے ہر طرف ہیں برکتیں

ماہِ رَمضاں  رحمتوں اور برکتوں کی کان ہے

بھائیو بہنو! کرو سب نیکیوں پر نیکیاں

پڑگئے دوزخ پہ تالے قید میں شیطان ہے

دو جہاں کی نعمتیں ملتیں ہیں روزہ دار کو

جو نہیں رکھتا ہے روزہ وہ بڑا نادان ہے

یاالٰہی! تُو مدینے میں کبھی رَمضاں دکھا

مُدّتوں سے دل میں یہ عطّار کے ارمان ہے

وسائلِ بخشش،705

از شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ

 


Comments


Security Code