شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے

نبیِّ رحمت، شفیعِ امّت صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے فرمایا : اِنَّ هَذَاالشَّهْرَ قَدْ حَضَرَكُمْ،وَفِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِِمَهَا فَقَدْ حُرِِمَ الْخَيْرَ كُلَّهُ، وَلَا يُحْرَمُ خَيْرَهَا اِلَّا مَحْرُومٌ

 ترجمہ:تمہارے پاس ایک مہینا آیا ہے جس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔جو شخص اِس رات سے محروم رہ گیا ،گویا وہ تمام کی تمام خیر(بھلائی ) سے محروم رہ گیا ،اور اس کی خیر سے محروم نہیں رہتا مگر وہ شخص جو حقیقۃ ًمحروم ہے۔(ابن ماجہ،ج2،ص298،حدیث:1644)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس حدیثِ مبارک میں جہاں عظمتوں والے مہینے رمضان شریف کی آمد کا ذکر فرمایا ہے وہیں اس مہینے کی بابرکت رات لیلۃُ القدر کی اہمیت کا بھی بیان ہے اور شبِ قدر کی خیر سے حصہ نہ پانے والے شخص کو محروم فرمایا گیا ہے ۔

شب قدر کی خیر اور اس سے محروم رہنے سے مراد

حضرت علامہ علی قاری رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ لکھتے ہیں :’’شب قدر کی ”خیر“ یہ ہے کہ عبادت کی توفیق مل جانا اور اس رات کے کچھ ہی حصے میں قیام کی سعادت پالینا اور اس کی بھلائیوں سے محروم ہونا اس کے لئے ہے جس کے لئے سعادت میں حصّہ نہ ہو اور نہ ہی اسے عبادت کا ذوق نصیب ہو۔“(مرقاۃ  المفاتیح،ج    4ص453،تحت الحدیث:1964)

حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یارخان نعیمی علیہِ رحمۃُ اللہِ الْغنِی لکھتے  ہیں: جس نے یہ رات گناہوں میں گزاری یا اس رات بھی بلاعذر عشا اور فجر جماعت سے نہ پڑھی اس لئے اس کی ”خیرو برکت“ سے محروم رہا وہ بقیہ دنوں میں بھی ”بھلائی“ نہیں کمائے گا۔شبِ قدر میں عبادتوں کی تین قسمیں ہیں: جن میں سے آخری قسم ہے ”عشا و فجر“ کا جماعت سے ادا کرنا، جس نے یہ بھی نہ کیا واقعی وہ بڑا محروم ہے۔ مزید لکھتے ہیں :اس رات کی عبادت میں مشقت نہایت ہی کم ہے اور ثواب بہت ہی زیادہ،  جو اتنی سی محنت بھی نہ کرسکے وہ پورا ہی محروم و بدنصیب ہے۔(مراۃ  المناجیح،ج3،ص138،139)

شبِ قدر کون سی رات ہے؟احادیث مبارکہ میں اس شب کو رمضان المبارک کے بالخصوص آخر ی عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کی ترغیب ہے اوراس رات کے بارے میں اگرچہ اکابرین علما،فقہا کے اقوال مختلف ہیں مگر اکثریت اور جمہور کی رائے یہی ہے کہ لَیْلَۃُ الْقَدْر رمضان شریف کی ستائیسویں شب ہے لہٰذا اسے کسی طرح بھی غفلت میں نہیں گزارنا چاہئے۔حافظ ابن حجرعسقلانی رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہلکھتے ہیں: جمہور علماستائیسویں شب کو لَیْلَۃُ الْقَدْر کہتے ہیں۔حضرت عبداللہ بن عباس رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کا پسندیدہ عدد طاق ہے اور طاق اعداد میں سا ت کا عدد زیادہ پسندیدہ ہے کیونکہ اللہتعالٰی نے سات زمینیں ،اور سات آسمان بنائے ،سات اَعْضَا پر سجدہ مَشْروع(یعنی اس کا حکم) فرمایا، طواف کے سات پھیرے مُقَرَّر کئے، ہفتے کے سات دن بنائے اور جب یہ ثابت ہوگیا کہ سات کا عدد زیادہ پسندیدہ ہے تو پھر یہ رات رمضان کے آخری عشرے کی ساتویں رات ہونی  چاہئے۔(فتح الباری،ج5،ص227،تحت الحدیث:2017ملخصاً)

 لیلۃُ القدر میں بھی مغفرت سے محروم رہنے والےافراد: (1)شراب کے عادی (2)والدین کے نافرمان (3)قطع رحمی، یعنی رشتے داروں سے تعلق توڑنے والے (4)آپس میں بغض و کینہ رکھنے والےاورآپس میں قطع تعلق کرنے والے۔(شعب الایمان،ج 3،ص336، حدیث:3695ملتقطاً)

اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں شبِ قدر عبادت میں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم