پریمئیم پرائز بانڈ(premium prize bond) کا حکم

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومُفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ میں کہ حال ہی میں پریمئیم پرائز بانڈ (Premium Prize Bond ) کے نام سے ایک نیا بانڈ جاری کیا گیا ہے جس میں ششماہی بنیاد پر نفع بھی ملے گا اور ہر تین مہینے بعد بذریعہ قرعہ اندازی حاملانِ بانڈ (جن کے پاس پرائز بانڈ ہو ان) میں سے کچھ افراد کو مختلف انعامی رقم بھی دی جائے گی  جس طرح کہ عام پرائز بانڈ میں دی جاتی ہے۔ البتہ پریمئیم پرائز بانڈ سے متعلق آفیشل ویب سائٹ:savings.gov.pk پر اس بانڈ سے متعلق جو اشتہار آویزاں ہے اس میں مزید کچھ باتوں کی صراحت ہے۔

(1)Issued in the name of investor with direct crediting facility of Prize money and Profit into Investor's Bank Account.

ترجمہ:یہ بانڈ انویسٹر کے نام پر جاری ہوگا اور نفع اور انعام ڈائریکٹ (Direct) اس کے بینک اکاؤنٹ میں ڈالا جائے گا۔

(2)No Risk of  Loss/Theft/Burnt.

ترجمہ:اس بانڈ کے گم ہونے، چوری ہونے یا جل جانے پر بھی کوئی خطرہ نہیں ہے۔ یعنی انویسٹر کو نقصان نہ ہوگا بلکہ وہ اس کا متبادل حاصل کرسکے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ اس بانڈ کا خریدنا، بیچنا کیسا ہے؟ اور اس پر حاصل ہونے والاششماہی نفع (Six Monthly Profit) اور ہر 3مہینے بعد بذریعہ قرعہ اندازی جو انعامات نکلیں گے ان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا وہ جائز وحلال ہیں؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

پریمئیم پرائز بانڈ (Premium Prize Bond ) ایک سودی بانڈ ہے جو کہ محض ایک سودی اکاؤنٹ میں جمع کردہ قرض کی رسید ہے جس پر واضح طور پر دلیل آفیشل اشتہار (Official Advertisement) کے یہ الفاظ  ہیں۔ اس بانڈ کے گم ہونے، چوری ہونے یا جل جانے پر بھی کوئی خطرہ نہیں ہے۔ یعنی اگر کسی کا یہ بانڈ چوری ہوجائے یا گم ہوجائے تو چور کے لئے یہ محض ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے جس کی کوئی قیمت نہیں  کہ اس سے وہ نفع اٹھا سکے بلکہ اصل مالک جس کے نام پر یہ جاری ہوا ہے وہ اس رسید کا مُتَبَادل (Duplicate) حاصل کرسکتا ہے یہ صراحت ہی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ بانڈ خود مال نہیں بلکہ جمع شدہ مال کی رسید ہےکیونکہ اگر یہ خود مال ہوتا تو دیگر بانڈز اور کرنسی نوٹوں کی طرح گم ہونے، جل جانے یا چوری ہوجانے پر مالک کو نقصان ہوتا اور چور کے لئے وہ ایک قابلِ نفع مال ہوتا حالانکہ  پریمئیم بانڈ ایسا نہیں ہے بلکہ اس کی حیثیت قومی بچت بینک (National Saving Bank) کے سیونگ اکاؤنٹ (Saving Account) کے سرٹیفکیٹ (Certificate) جیسی ہی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ سیونگ سرٹیفکیٹ پر نفع زیادہ ملتا ہے اس میں نفع کم ملے گا اور سیونگ سرٹیفکیٹ پر قرعہ اندازی کے ذریعے سے انعامات کا سلسلہ نہیں ہوتا جبکہ پریمئیم بانڈ میں پرائز بانڈ کی طرز پر انعام بھی رکھا گیا ہے۔

پریمئیم بانڈ پر ششماہی ملنے والا نفع اور ہر 3ماہ پربذریعہ قرعہ اندازی بنام انعام ملنے والا نفع دونوں ہی خالصتاً سود (Interest) ہیں اسی لئے پریمئیم بانڈ خریدنا، بیچنا ناجائز وحرام اور کبیرہ گناہ ہے بلکہ سود ہونے کی وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ ورسول صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم سے اعلانِ جنگ کے مترادف ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ قراٰنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: (1) (وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ- )  ترجمہ:اللہ نے خرید و فروخت کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا۔(پ 3، البقرۃ:275)(2)  (یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِؕ-) ترجمہ:اللہسود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ (پ 3، البقرۃ:276)(3) (یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۲۷۸)فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۚ- )  ترجمہ:اے ایمان والو! اگر تم ایمان والے ہو تو اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو۔  پھر اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف سے لڑائی کا یقین کرلو۔(پ 3، البقرۃ:279،278)

حدیث مبارک میں ہے:کُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفِعَۃً فَھُوَ رِبًاترجمہ: قرض کے ذریعہ سے جو منفعت حاصل کی جائے وہ سود ہے۔(کنز العمال، جزء6،ج3 ، ص99،حدیث:15512)

نبیِّ کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے سود لینے اور دینے پر لعنت فرمائی اور سب کو گناہ میں برابر قرار دیا، چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت جابر رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ سے مروی، فرماتے ہیں:’’لَعَنَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ وسلَّم اٰکِلَ الرِّبَا وَمُوکِلَہُ وَکَاتِبَہُ وَشَاھِدَیْہِ، وَقَالَ ھُمْ سَوَاءٌ ترجمہ:رسول اللہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہِ واٰلِہٖ وسَلَّم نے سود لینے والے، دینے والے، اسے لکھنے والے اور اس پر گواہ بننے والوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا: یہ سب (گناہ میں) برابر ہیں۔ (مسلم،ص663،حدیث:4093)

مسلمانوں پر لازم ہے کہ دنیاوی لالَچ وحِرْص میں پریمئیم پرائز بانڈ کے ذریعہ سود جیسے کبیرہ گناہ میں گرفتار ہوکر دنیا و آخرت کی تباہی وبربادی اور رب عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی اپنے سر نہ لیں بلکہ فقط حلال پر ہی اِکتفاء کریں اللہ عَزَّوَجَلَّ اسی میں برکت دے گا جبکہ سود میں برکت تو دور کی بات ہے یہ تو دنیاوی مال میں بھی ہلاکت وبربادی کا سبب ہے۔

اللہ تعالٰیمسلمانوں کو عقلِ سلیم عطا فرمائے اور سود جیسی نحوست سے ہمارے معاشرہ کو محفوظ فرمائے۔اٰمین!

تنبیہ یہ حکم اس خاص پرائز بانڈ کا ہے جو پریمئیم کے نام سے پاکستان میں پہلی مرتبہ 40،000 کا جاری ہوا ہے جبکہ پہلے سے جاری شدہ دیگر پرائز بانڈ جن کی خرید وفروخت کی جاتی ہے وہ جائز ہیں اور ان پر حاصل ہونے والا انعام بھی جائز ہے کیونکہ وہ قرض کی رسید نہیں بلکہ خود مال ہیں اسی لئے گُم ہونے، جل جانے یا چوری ہوجانے کی صورت میں ان کا کوئی بدل نہیں دیا جاتا بلکہ جس کے ہاتھ میں ہو اُسے ہی مالک سمجھا جاتا ہے اسی لئے اسٹیٹ بینک (State bank) اور ہر مالیاتی ادارہ بلکہ ہر شخص کرنسی کی طرح ہی ان بانڈ کی خرید وفروخت کرتا ہے کیونکہ ہر شخص یہ جانتا ہے کہ یہ کسی قرض کی رسید نہیں بلکہ خود مال ہے یہی وہ واضح فرق ہے جو عام پرائز بانڈ اور پریمئیم پرائز بانڈ کے مابین ہے جس کی وجہ سے دونوں کا حکم جدا جدا ہے۔ وَاللہُ اَعْلَم  عَزَّوَجَلَّ  ورَسُوْلُہُ اَعْلَم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم

مُجِیْب

مُصَدِّق

ابو مصطفی محمد کفیل رضا عطاری المدنی

ابو الصالح محمد قاسم القادری



a-aa

 


پریمئیم پرائز بانڈ(premium prize bond) کا حکم

شیخ الاسلام  ابوالحَسَن حضرت سَرِی بن مُغَلِّس سَقَطِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیحضرت معروف کرخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے مرید اور حضرت جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے استاد اور ماموں تھے۔ (تذکرۃ الاولیاء، جزء1،ص246)

حضرت سیّدنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں: ایک مرتبہ آپ کے وظائف کا ایک حصہ آپ سے فوت ہوگیا  تو ارشاد فرمایا:میرے لئے اس کی قضا ممکن نہیں (یعنی آپ کی دینی مصروفیات اتنی تھیں کہ قضا کے لئے کوئی فارغ وقت نہیں تھا)۔ (سیر اعلام النبلاء،ج 10، ص149(

دعا کی برکت ایک بزرگ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں نے آپ کے گھر حاضر ہو کر دستک دی،آپ دروازے کے قریب تشریف لائے تومیں نے سنا  کہ آپ کہہ رہے تھے: اے اللہ! جس نے مجھے تجھ سے غافل کیا تو اسے اپنی یاد میں مشغول کردے۔وہ بزرگ فرماتے ہیں:اس دعا کی ایک برکت یہ ظاہر ہوئی کہ میں نےحلب شہر سےپیدل 40 حج کئے۔(الانساب للسمعانی،ج9، ص155)

سب کی مغفرت(حکایت) ایک شخص آپ کے جنازے میں شریک ہوا،رات اس نے آپ کوخواب میں دیکھ کر پوچھا:مَا فَعَلَ اللّٰہُ بِکَ یعنیاللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ فرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے میری اور میرے جنازے میں شریک ہونے والوں کی مغفرت فرمادی۔ اس شخص نے عرض کی: حضور! میں بھی آپ کے جنازے میں شریک  تھا۔آپ نے  ایک کاغذ نکال کر اس میں دیکھا، لیکن اس کا نام نظر نہ آیا، اس نے عرض کی:حضور! میں یقیناً حاضر ہوا تھا، آپ نے دوبارہ نظر کی تو اس کا نام حاشیے  میں لکھا ہوا دیکھا۔ (تاریخِ دمشق،ج20،ص198)

آپ کا پیشہ آپ ابتدا میں ”سَقَط (یعنی معمولی اور چھوٹی موٹی چیزیں)“ بیچتے تھے۔(تذکرۃ الاولیاء، جز1، ص 246) اسی مناسبت سے آپ کو ”سَقَطِی“ کہا جاتا ہے (جسے اردو میں چھابڑی فروش کہتے ہیں)۔ منقول ہے کہ  آپ مال خریدتے اور بیچتے تھے اورہر دس دینار کے مال پر صرف آدھا دینار نفع رکھتے تھے ، اس سے زیادہ نفع  اگر کوئی دیتا بھی تو نہیں لیتے تھے۔

روزانہ ایک ہزارنفل(حکایت) آپ نے اپنی دکان میں ایک پردہ لگایا ہوا تھا جس کے پیچھے تشریف لے جا کر روزانہ ایک ہزار  نفل پڑھتے تھے۔(تذکرۃ الاولیا،جز1، ص246)

اِس حکایت میں  ان تاجروں اور ملازموں کے لئے سیکھنے کا بہترین مدنی پھول موجودہے جو اپنےفارغ اوقات  خوش گپیوں، فضول باتوں اورموبائل کے غلط اِستعمال (Miss Use)  میں گزار دیتے  ہیں اور بعض جماعت تو جماعت نماز بھی چھوڑدیتے ہیں۔ اپنی زندگی کے انمول لمحات بے مقصد کاموں میں برباد ہونے سے بچائیے اورفرصت کی گھڑیوں کو غنیمت جان کر جتنا ہوسکے درودِ پاک، تسبیحات وغیرہ ذکر و اذکار سے اپنی زبان کو تَر رکھئے۔ اگر کچھ پڑھنے کے بجائے خاموش رہنے کو جی چاہے تو اس میں بھی ثواب کمانے کی صورتیں ہیں،مثلاً علمِ دین کی بات میں غور و فکر شروع کردیجئے، یا موت کے جھٹکوں،قبر کی تنہائیوں، اس کی وحشتوں اور محشر کی ہولناکیوں کی سوچ میں ڈوب جائیے،اس طرح وقت ضائع نہیں ہوگا بلکہ ایک ایک سانس عبادت میں شمار ہوگا۔ اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ  وَجَلَّ


پریمئیم پرائز بانڈ(premium prize bond) کا حکم

اچھی اچھی نیّتوں کے ساتھ اسلامی اُصولوں کے مطابق تجارت کرنا عبادت ہے مگر مال کی بےجا مَحَبَّت  کے سبب ہر وقت دَھن(مال و دولت) کمانے کی ایسی دُھن  بھی سوار نہیں ہونی چاہئے کہ بندہ حُقوقُ العباد(بندوں کے حقوق) اور حُقوقُ اللہ سےایساغافل ہوجائےکہ نمازوں کی پابندی نصیب ہونہ رمضان کا روزہ ،زکوٰۃ کی ادائیگی میں بھی ٹالم ٹول کرے، برسوں سے حج فرض ہوچکاہو مگر پہلے ’’بچوں کی شادی کرلوں ، فلاں کاروبار سیٹ کرلوں“ جیسے بہانے بنا کر اس کی ادائیگی سے کتراتا رہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے : ( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ)(پ28،المنافقون:9)تَرْجَمَۂ کنزالایمان:اے ایمان والو  تمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں اللہکے ذکر سے غافل نہ کرے۔

ہمارے بزرگانِ دین نے بھی اپنے ہاتھوں سے محنت کرکے روزی کمائی ہے، تجارت بھی کی ہے مگرکام کاج  کے دوران جب ان کے کانوں میں  اذان کی آواز رس گھولتی توسب کام کاج چھوڑ کر مسجد کی طرف چل دیا کرتے تھے، یہاں تک کہ لوہار اٹھائے ہوئے  ہتھوڑے سے چوٹ نہ لگاتا اوراسے  نیچے رکھ دیتا اسی طرح موچی چمڑے  میں داخل کی ہوئی سوئی نکالنا پسند نہ کرتا بلکہ بعض بزرگانِ دین تو نماز کے اوقات میں  اُجرت پربچوں اوراہلِ کتاب ذمیوں کو دکانوں کی حفاظت پرمقرر کرکےخود مسجد چلے جاتے ۔(احیاء العلوم ،ج2، ص108 ملخصاً) ایسے خوش نصیبوں کی تعریف قرآن کریم میں بھی کی گئی ہے: ( رِجَالٌۙ-لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ ﭪ-  ) تَرْجَمَۂ کنز الایمان:وہ مردجنہیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا اور نہ خرید و فروخت اللہ کی یاد اور نماز برپا رکھنے اور زکوٰۃ دینے سے۔ (پ18، النور :37)

ہمارے بزرگانِ   دین دورانِ تجارت بھی نوافل کااہتمام کیا کرتےتھے،چنانچہ حضرت سیّدنا جنیدبغدادیعلیہ رحْمۃُ اللہِ الْہَادِی کا معمول تھا کہ آپ با زار جاتے اور اپنی دکان کھول کراس کے آگے پردہ ڈال دیتے اور چار سو رکعت نفل ادا کرتے ۔ (مکاشفۃ القلوب، ص38) ہمیں بھی  بُزرگان دین کے طرزِ عمل کے  مطابق تجارت  کے وقت  نہ صرف باجماعت نمازوں   کی پابندی کرنی چاہیے  بلکہ وقتاً فوقتاً ذکرودرود کی بھی عادت بنانی چاہئے۔

اَلْحَمْدُللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّرمضانُ المبارک نیکیاں کمانے کا مہینا ہے اور اس میں نیکیوں کا ثواب بھی بڑھ جاتا ہے لہٰذاان مبارک ایام میں ذوقِ عبادت  اور شوقِ تلاوت بڑھ جانا چاہئے۔ مگرکئی  تاجر اس مہینے میں بھی نوٹ کمانے میں مصروف رہتے ہیں، یوں قراٰنِ کریم کی تلاوت اور ذکرو درودسے محروم ہو جاتے ہیں بلکہ تراویح جیسی خصوصی اور اہم عبادت سے بھی غفلت برتتے ہیں اور چند روزہ تراویح   پڑھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ باقی دنوں کی تراویح ہم پر  معاف ہے حالانکہ پورے مہینے کی تراویح سنّتِ مُؤکدہ ہے۔ یہ توتراویح میں سستی کاعالَم ہے ورنہ مال کی حرص پر مَعَاذَاللہ عَزَّ  وَجَلَّنمازو روزے جیسی فرض عبادت کو ضائع کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔

یاد رکھئے! جس شخص کو  اُس کے مال نے نماز سے غافل رکھا تو وہ قارون کے مشابہ ہے اور وہ بروزِ قیامت قارون کے ساتھ اٹھايا جائے گا۔ (کتاب الکبائر ،ص21)

اللہ تعالٰی ہم سب کو ماہ رمضان میں خوب خوب نیکیاں کمانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  


پریمئیم پرائز بانڈ(premium prize bond) کا حکم

حدیث شریف میں ہے:حلال کمائی کی تلاش بھی فرائض کے بعد ایک فریضہ ہے۔ (شعب الایمان،ج6، ص420،حدیث:8741) حلال روزی کمانے اور کھانے کی بڑی فضیلت ہے۔ایک  بُزُرگ رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ  کا قول ہے:مسلمان جب حلال کھانے کا پہلا لقمہ کھاتا ہے اُس کے پہلے کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور جو شخص طلبِ حلال کے لئے رُسوائی کے مقام پر کھڑا ہوتا ہے اُس کے گناہ درخت کے پتّوں کی طرح جھڑتے ہیں۔ (اِحیاءُ العلوم ،ج2، ص116) یہ فَضائِل و بَرکات اُسی وقت حاصل ہوں گے جب شریعت و سنَّت کے مطابق حلال روزی کمائی جائے  اور خود کو حرام سے بچایا جائے۔یاد رکھئے!حلال کمانے اور خود کو حرام سے بچانے کے لیے ہرشخص پر اپنی موجودہ حالت کے اِعتبار سے شرعی  اَحکام کا سیکھنا فرضِ عین ہے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہِ رحمۃُ  الرَّحمٰنفرماتے ہیں:تاجر تجارت، مُزارِع (کسان) زَراعت، اَجیر (مزدور، مُلازِم) اِجارے،غَرَض ہر شخص جس حالت میں ہے اُس کےمُتَعلِّق اَحکامِ شریعت سے واقِف ہو فرضِ عین ہے۔ (فتاویٰ رضویہ،ج23، ص647) لہٰذا رزقِ حلال کے حُصول کے لئے  مُلازَمت یا تجارت کرنے والے کے لئے پہلے حسبِ حال ضَروری اَحکام سیکھنا فرض ہیں،اگر کوئی نہیں سیکھے گا تو وہ گنہگار اور عذابِِ نار کا حقدار ہو گا۔

ایک زمانہ وہ تھا کہ ہر مسلمان اتنا عِلم رکھتا تھا جو اُس کی ضَروریات کو کافی ہوتا ،عُلَما بکثرت موجود تھے جو  معلوم نہ  ہوتا اُن سے بآسانی دریافت کر لیا جاتا یہاں تک کہ اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے حکم فرما دیا تھا  کہ ہمارے بازار میں وُہی خرید و فروخت کرے جو دِین میں فقیہ(یعنی عالِم) ہو۔ (ترمذی،2/29،حدیث:487) ایک روایت میں یوں ہے:ہمارے بازار میں وہی شخص آئے جو دِین میں فقیہ (یعنی عالِم) ہو اور سود خور نہ ہو۔ (تفسیرقرطبی،البقرۃ، تحت الآیۃ:279،الجزء الثالث،ج2، ص267)

جس طرح كام شروع كرنے سے پہلے ماہر دکاندار سے تربیت لیتے ہیں اُسی طرح عُلَما و مُفتیانِ کرام سے مسائل بھی سیکھیں۔افسوس!اب لوگوں کی اِس طرف توجّہ نہ رہی اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جسے اگرکسی کام میں فائدہ نظر آیا تو  شرعی رَہنمائی لئے بغیر اُسے کر گزرتی ہے۔یاد رکھئے! جب  تجارت کے شرعی احکام نہیں سیکھیں گے تو حرام میں مبتلا  ہونے کا خطرہ باقی رہے گااور مبتلا ہوبھی جائیں گے تو کانوں کان خبر نہیں ہوگی۔

ہمارے اَسلافِ کرام رحمہمُ اللہُ السَّلام بازار میں خرید و فروخت کے لئے اُس وقت تک نہ بیٹھتے جب تک مُعاملات کے بارے میں شرعی اَحکام نہ جان لیتے اور اُن کا غالِب گمان یہ ہوتا کہ ان میں سے کوئی بھی اس تجارت کی وجہ سے اَعمالِ آخرت  سے غافِل نہیں کیونکہ جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ سے غافِل ہو جائے وہ دُنیا و آخرت میں اپنے ساتھی کے لئے نحوست کا باعِث ہوتا ہے۔ (تنبیہ المغترین ،ص163) اگر کوئی دوسرا بھی بغیر عِلم کے تجارت  کرتا تو اُسے بھی بازار سے اُٹھا دیتے چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا امام مالک علیہِ رحمۃُ اللہِ الخَالِق اُمَراء کو حکم دیتے تو وہ تاجروں کو جمع کر کے آپ رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ کے سامنے پیش کرتے ،جب آپ ان میں سے کسی کو یوں پاتے کہ وہ مُعاملات کے اَحکام کو نہیں سمجھتا اورحلال و حرام کی پہچان نہیں کر پاتا تو اُسے بازار سے اُٹھا دیتے اورفرماتے پہلے خرید و فروخت کے اَحکام سیکھو پھر بازار میں بیٹھو!کیونکہ جو شخص  عِلم نہیں رکھتا وہ سودکھاتا ہے خواہ وہ چاہے یا نہ چاہے۔ (تنبیہ المغترین ،ص164)