سفر میں روزے کا حکم/ زکوٰۃ کس مہینے میں ادا کریں؟/روزے میں  انجیکشن  کا حکم

دار الافتاء اہلسنّت (دعوتِ اسلامی)مسلمانوں کی شرعی رہنمائی میں مصروفِ عمل ہے۔ تحریراً، زبانی، فون اور دیگر ذرائع سے ملک وبیرونِ ملک سے ہزار ہا مسلمان شرعی مسائل دریافت کرتے ہیں۔ جن میں سے پانچ منتخب فتاویٰ ذیل میں درج کئے جا رہے ہیں۔

سفر میں روزے کا حکم

سوال:کیا فر ما تے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی رمضان المبارک میں سفرِ شرعی میں ہو تو اسے روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

مسافر کو روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار ہے جب اس مسافر یا اس کے ساتھ والے کو اس روزہ رکھنے سے ضَرَر (نقصان) نہ ہو تب تو بہتر یہ ہے کہ روزہ رکھ لے اگر روزہ رکھنے سے اس کو یا ساتھ والے کو ضرر پہنچے تو اب نہ رکھنا بہتر ہے۔ لیکن یہ مسئلہ ذہن میں رہے کہ دن میں سفر کرنا ہو اور صبح صادق کے وقت مسافر شرعی نہ ہو تو دن میں سفر کرنے کی وجہ سے اس دن روزہ چھوڑنے کی رخصت نہیں بلکہ اس دن کا روزہ رکھنا ہوگا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ و رَسُوْلُہُ اَعْلَم صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلِہٖ وسلَّم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

عبدہ المذنب فضیل رضا العطاری عفا عنہ الباری

سحری اور روزہ

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کی رمضان میں آنکھ لیٹ کھلی وہ یہ سمجھتے ہوئے کہ ابھی سحری کا ٹائم باقی ہے کھانا کھاتا رہا بعد میں پتہ چلا کہ سحری کا ٹائم تو ختم ہوچکا تھا پھر بھی اس شخص نے روزہ رکھ لیا تو اس شخص کا روزہ ہوا یا نہیں؟ اگر ایسا ہوچکا ہو تو اب کیا حکم ہے؟ کیا گناہ وکفّارہ ہے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرما دیں۔ سائل:قاری ساجد عطاری(نارووال )

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

صورتِ مسئولہ میں اس  کا روزہ نہیں ہوا اس پر اس دن کے روزے کی قضا رکھنا فرض ہے یعنی اس روزے کے بدلے میں ایک روزہ رکھنا پڑے گا لیکن کوئی کفّارہ نہیں اور چونکہ خطاءً ایسا ہوا ہے اس لئے گناہ بھی نہیں ہے۔ یاد رہے کہ ایسی صورت میں اگرچہ روزہ نہیں ہوتا لیکن بقیہ سارا دن روزہ دار کی طرح رہنا واجب ہوتا ہے لہٰذا اگر اس طرح کی صورت کسی کو درپیش ہوئی ہو اور اس نے سارا دن روزہ دار کی طرح نہ گزارا تو وہ ضرور گنہگار ہوگا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ و رَسُوْلُہُ اَعْلَم صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلِہٖ وسلَّم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

عبدہ المذنب فضیل رضا العطاری عفا عنہ الباری

زکوٰۃ کس مہینے میں ادا کریں؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا زکوٰۃ رجب المرجب کے مہینے میں دینا ضروری ہے یا رمضان میں دینی چاہئے؟سائل:گلستان انجم(چکوال)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

زکوٰۃ کا تعلق رمضان شریف یا رجب المرجب سے نہیں بلکہ زکٰوۃ کی ادائیگی سال پورا ہونے پر فرض ہوتی ہے یعنی جب آپ صاحبِ نصاب ہوئے اور پھر آپ کے نصاب پر سال گزرا تو اب زکوٰۃ فرض ہوگی چاہے وہ کوئی سا بھی مہینا ہو تاخیر جائز نہیں گناہ ہے، مثلاً کوئی شخص شوال المکرم کی پانچ تاریخ کو صبح دس بجے صاحبِ نصاب ہوا اور پھر اگلے سال اسی  مہینے، اسی تاریخ پر صاحبِ نصا ب ہے تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔ لہٰذا اب اسی وقت زکوٰۃ نکالنا فرض ہے تاخیر کرنے والا گنہگار ہوگا۔ اسی طرح اگر صاحبِ نصاب رجب میں ہوا یا رمضان میں تو اسی کا اعتبار کیا جائے گا۔ البتہ اس مہینے کے آنے سے پہلے اگر زکوٰۃ ادا کردی جائے تو اس میں حرج نہیں جیسے شوال المکرم میں جس پر زکوٰۃ نکالنا فرض ہے وہ اگر رمضان میں دینا چاہے تو درست ہے بلکہ رمضان  میں  فرض پر عمل کرنے والے کو ستَّر گُنا بڑھا کر ثواب دیا جاتا ہے اس لئے سال پورا ہونے سے پہلے اگر کوئی رمضان میں ادا کرے تاکہ زیادہ ثواب حاصل کرے تو اچھی بات ہے لیکن اگر کسی کا سال رجب یا شعبان میں پورا ہورہا ہواور وہ یہ سوچے کہ ایک دو مہینے بعد رمضان آنے والا ہے میں اس میں دوں گا تو ایسا کرنا جائز نہیں بلکہ فوراً سال پورا ہوتے ہی  زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم

مُجِیْب                                                                                                               مُصَدِّق

ابوحذیفہ محمد شفیق العطاری المدنی        مفتی ابوالحسن فضیل رضا العطاری

کیا انجیکشن لگوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شوگر کے مریض انسولین کا انجیکشن استعمال کرتے ہیں جو کہ رَگ کے بجائے گوشت میں لگایا جاتا ہے تو شوگر والے روزے کی حالت میں انسولین لگاسکتے ہیں یا نہیں؟ اس سے روزہ ٹوٹے گا یا نہیں؟سائل:محمد عدنان عطاری(مرکز الاولیا، لاہور)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

حالتِ روزہ میں انسولین کا انجیکشن لگانا جائز ہے، اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ عمومی طور پر انجکشن کی سوئی جوف (معدہ یا معدہ تک جانے والے راستوں کے اندرونی حصے) یا دماغ تک نہیں پہنچائی جاتی اور جوف تک جانے کا کوئی عارضی راستہ بھی نہیں بنتا کہ جس کے ذریعے دوائی جوف تک پہنچ سکے  لہٰذا یہ انجیکشن روزہ ٹوٹنے کا سبب نہیں۔ مسامات کے ذریعے کسی چیز کا داخل ہونا ویسے ہی روزے کے منافی نہیں جیسا کہ جسم پر تیل لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا کہ تیل اگرچہ جسم کے اندر جاتا ہے لیکن مسامات کے ذریعے اور یہ روزے کے خلاف نہیں۔

فتاویٰ فیض الرسول میں ہے:”تحقیق یہ ہے کہ انجیکشن سے روزہ نہیں ٹوٹتا چاہے رَگ میں لگایا جائے چاہے گوشت میں۔“(فتاویٰ فیض الرسول،1/516)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ و رَسُوْلُہُ اَعْلَم صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلِہٖ وسلَّم

مُجِیْب                                                                                                               مُصَدِّق

محمد ساجد عطاری         مفتی ابوالحسن فضیل رضا العطاری

جائے نماز میں اعتکاف کرنے کا حکم

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جائے نماز میں رمضان کے آخری عشرے کا مسنون اعتکاف کروایا جا سکتا ہے یا نہیں؟سائل:محمد عرفان عطاری(زم زم نگرحیدر آبادباب الاسلام سندھ)

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

مَردوں کے اعتکاف کے لئے وقف مسجد کا ہونا شرط ہے جائے نماز چونکہ مسجد نہیں ہوتی اس لئے اس میں مَردوں کا اعتکاف بھی نہیں ہوسکتا۔ احناف کے نزدیک وقف مسجد کے علاوہ صرف عورتوں کا اعتکاف نماز کے لئے گھر میں مخصوص کی گئی جگہ جسے مسجدِ بیت کہتے ہیں اس میں ہوسکتا ہے۔ مَردوں کے اعتکاف کے لئے بہر صورت مسجد ضروری ہے جائے نماز میں اعتکاف ہرگز  درست  نہ ہوگا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ و رَسُوْلُہُ اَعْلَم صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہِ واٰلِہٖ وسلَّم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

عبدہ المذنب فضیل رضا العطاری عفا عنہ الباری