قراٰنِ مجید اتارنے کامقصود/اپنے بدلے کسی کو روزہ رکھوانا/زلزلہ آنے کا اصلی باعث

احمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی

 (1)جب تک نبیِّ کریم (صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم)  کی سچی  تعظیم  نہ ہو،  عمر بھر عبادتِ الٰہی میں گزرے،  سب بے کار و مردود ہے۔(تمہید الایمان،ص53مکتبۃ المدینہ)

(2) بلا ضرورت و مجبوری شَرعی  فرض روزہ زبر دستی تڑوانے والا شیطانِ مُجَسَّم( یعنی سر سے پاؤں تک شیطان  ہے ) اور مستحقِ نارِ جہنم (جہنم کی آگ کا مستحق) ہے ۔(فتاوی رضویہ،ج 10،ص520)

(3)مسلمان اے مسلمان!شریعتِ مصطفوی کو تابعِ فرمان جان اور یقین جان کہ سجدہ حضرت عزتجَلَالُہ کے سوا کسی کے لئے نہیں۔ اس کے غیر کو سجدۂ عبادت یقیناً اجماعاً شرکِ مُہِیْن (بدترین شرک) و کفرِمُبِیْن(واضح ترین کفر) اور سجدۂ تَحِیَّت (سجدہ تعظیمی)حرام وگناہ کبیرہ بِالیقین۔(فتاویٰ رضویہ، ج22،ص 429)

(4) اے عزیز! آدمی کو اس کی اَنانِیَّت(خودی و غرور) نے ہلاک کیا، گناہ کرتا ہے اور جب اس سے کہا جائے توبہ کر، تو اپنی کسر ِشان(بے عزّتی) سمجھتا ہے۔ عقل رکھتا تو اِصرار میں زیادہ ذِلّت و  خوار ی جانتا۔(فتاویٰ رضویہ،ج27،ص186)

(5) مسلمان بھائیوں کو چاہئے کہ شرع کے کام شرع کے طور پر کریں اپنے خیالات کو دخل نہ دیں۔(فتاوی رضویہ، ج10ص445)

(6)کنگھے کے لئے شریعت میں کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہے۔ اِعتِدال کا حکم ہے، نہ تو یہ ہو کہ آدمی جِنّاتی شکل  بنا رہے نہ یہ ہو کہ ہر وقت مانگ چوٹی میں گرفتار(رہے)۔(فتاویٰ رضویہ،ج 29،ص94)

(7)مسلمانو!دیکھو دینِ اسلام بھیجنے، قراٰنِ مجید اتارنے کامقصود  ہی تمہارے مولیٰتَبَارَکَ وَتَعَالٰیکاتین باتیں بتانا ہے:

اَوّل یہ کہ لوگ اﷲ و رسول پر ایمان لائیں ۔دوم یہ کہ رسول اﷲ  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ وسَلَّم کی تعظیم کریں ۔سوم یہ کہ اللہ تَعَالٰی کی عبادت میں رہیں۔(فتاویٰ رضویہ، ج30،ص308)

 (8)روزے میں سُرمہ بھی ہر وقت لگانے کی اِجازت ہے اور روزہ دار سر میں روغَن(تیل) ڈال سکتا ہے، بدن پر بھی روغَن مَل سکتا ہے۔ (فتاویٰ رضویہ،ج 10،ص511، ملخصاً)

 (9)رمضانُ المبارک میں اگر کسی وجہ(سے)  روزہ نہ ہو تو غیرِ مَعْذورِ شرعی(وہ شخص  جسے عذرِ شرعی لاحق نہ ہو) کو  دن بھر  روزہ(دار) کی طرح رہنا واجب اور کھانا پینا حرام ۔ (فتاویٰ رضویہ،ج 10،ص519)

 (10)اپنے بدلے  دوسرے کو روزہ رکھوانا  محض باطل و بے معنیٰ ہے ، بدنی عبادت ایک کے  کئے  دوسرے پر سے نہیں اُتَر سکتی ۔(فتاویٰ رضویہ،ج 10،ص520)

(11) دین خیر خواہی ہے اور خیر خواہی پر ثواب ملتاہے۔ (فتاویٰ رضویہ،ج27،ص653)

(12) زلزلہ آنے کا اصلی باعث آدمیوں  کے گناہ  ہیں۔ (فتاویٰ رضویہ،ج27،ص93ملخصاً)

 

مال کے تباہ ہونے کا ایک  سبب

فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم ہے:”خشکی و تَری میں جو مال تَلَف(ضائع یا گم ) ہوتا ہے، وہ زکوٰۃ نہ دینے سے تَلَف ہوتا ہے۔“ (الترغیب والترھیب، ج 1،ص367، حدیث: 1146)