We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Nekiyan Chupao

اَتَوۡا وَّیُحِبُّوۡنَ اَنۡ یُّحْمَدُوۡا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوۡا فَلَا تَحْسَبَنَّہُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ ۚ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۸۸ ۴،اٰل عمرٰن:۱۸۸)

جو خوش ہوتے ہیں اپنے کیے پر اور چاہتے ہیں کہ بے کیے   اُن کی تعریف ہو ایسوں کو ہرگز عذاب سے دُور نہ جاننا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

ہاں! اگر تعریف واقعی ہو تو اگر چہ تاویل معروف ومشہور کے ساتھ جیسے شَمْسُ الْاَئِمَّہ وفَخْرُالْعُلَمَاء وتَاجُ الْعَارِفِیْن وَاَمْثَالُ ذٰلِکَ(اماموں کے آفتاب، اہلِ علم کے لیے فخراور عارفوں کے تاج اور اسی قسم اور نوع کے دوسرے توصیفی کلمات) کہ مقصود اپنے عصر یا مصر کے لوگ ہوتے ہیں اور اس پر اس لیے خوش نہ ہو کہ میری تعریف ہو رہی ہے بلکہ اس لیے کہ اِن لوگوں کی (تعریف)ان(عوام الناس) کو نفع دینی پہنچائے گی، سَمْعِ قبول سے سنیں گے جو ان کو نصیحت کی جائے گی تویہ حقیقۃً  حُبِّ مدح(یعنی  اپنی تعریف کو پسند کرنا) نہیں بلکہ حُبِّ نُصْحِ مسلمین (مسلمانوں کی خیر خواہی سے محبت)ہے اور وہ محض (خالص)ایمان ہے۔(1)

مخلص ہونے کی علامت

اپنی تعریف اور مَذمَّت سننے کے مُعاملے میں انسان کو شِیرخوار بچے کی

مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ

[1]…… فتاویٰ رضویہ ،۲۱/۵۹۶-۵۹۷