We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Nekiyan Chupao

جھوٹی تعریف سُننے والوں کے لیے  وَعیدِشدید

اگر تعریف کرنے والا ایسے وصف کے ساتھ آپ  کی تعریف کرے جو آپ  میں موجود نہیں تو فوراً اسے منع کر دیجیے  کہ  میں ایسا نہیں ہوں۔اگر آپ اپنی جھوٹی تعریف سن کر خاموش رہے ،  مُسکراتے  رہے یا سچی تعریف پربھی  اندر ہی اندر سے لطف اندوز ہوتے ، پھولتے اور اپنا کمال تصوّر کرتے  رہے تو خود سِتائی کی عادت سے دُنیا وآخرت داؤ پر لگ سکتی ہے۔میرےآقا اعلیٰ حضرت،امام اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں: حُبِّ ثناء(اپنی تعریف کی خواہش)غالباً(یعنی اکثر صورتوں میں)خصلتِ مذمومہ (قابلِ مذمت عادت)ہے اور کم از کم کوئی خصلتِ محمودہ(قابلِ تعریف عادت) نہیں اور اس کے عَواقب(نتائج) خطر ناک ہیں۔حدیث میں ہے رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمفرماتے ہیں :حُبُّ الثَّنَاءِ مِنَ النَّاسِ يُعْمِيْ وَ يُصِمُّ(یعنی) ستائش پسندی آدمی کو اندھا اوربہرا کردیتی ہے۔(1)اوراگر اپنی جھوٹی تعریف کو دوست رکھےکہ لوگ ان فضائل سے اس کی ثناء کریں جو اس میں نہیں جب تو صریح حرامِ قطعی ہے۔ قَالَ اﷲُ تعالٰی(اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:)

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَفْرَحُوۡنَ بِمَاۤ

ترجمۂ کنز الایمان:ہر گز نہ سمجھنا انہیں

مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ

[1]…… فِردوسُ الاخبار ، باب الحاء ،۱/۳۴۷ ، حدیث:۲۵۴۸